کتاب: قرآن وحدیث کی روشنی میں احکام و مسائل - صفحہ 171
طریقے سے ثابت نہیں تو کہتے ہیں کہ ہم یہ اذان اس لیے پڑھتے ہیں کہ یہ لوگ اُٹھ کر سحری کے لیے کھانا تیار کر لیں ۔ ۲...…یہ سارا سال اذان پڑھتے رہتے ہیں اور فجر کی اذن سے تقریباً پون گھنٹہ (۴۵منٹ) پہلے پڑھتے ہیں اور کہتے ہیں اس اذان کا مقصد ہے جو لوگ قیام کر رہے ہیں ان کو لوٹایا جائے اور جو سو رہے ہیں ان کو جگایا جائے تاکہ فجر کی نماز کی تیاری کر سکیں ۔ ۳.....یہ کہتے ہیں کہ ۴۵ منٹ کا وقفہ بھی زیادہ ہے صرف اتنا وقفہ ہونا چاہیے کہ ایک مؤذن اذان پوری کر لے تو دوسرا مؤذن اذان شروع کر دے اور استدلال کرتے ہیں بخاری کی اس روایت سے ’’قاسم رحمۃ اللہ علیہ نے کہا بلال اور ابن ام مکتوم رضی اللہ عنہ دونوں کی اذان میں اتنا ہی فرق ہوتا کہ ایک اترتا اور دوسرا چڑھتا۔ ان تینوں گروہوں میں سے حق پر کون ہے؟ (محمد یونس شاکر ، نوشہرہ ورکاں ) ج: اس اذان کے رمضان کے ساتھ مخصوص ہونے کی کوئی دلیل نہیں ، یہ رات والی اذان فجر کی اذان سے تھوڑی دیر پہلے کہی جاتی تھی۔ منٹوں ، گھنٹوں میں اس وقفے کی تعیین کہیں وارد نہیں ہوئی۔ اس اذان کا مقصد ہے قیام کرنے والوں کو لوٹایا جائے اور سوئے ہووؤں کو جگایا جائے۔[1] ۱۴؍۱۱؍۱۴۲۲ھ س: کیا اذان سے پہلے اور بعد میں درُود شریف مشروع ہے؟ (ابو سفیان) ج: اذان کے بعد درُود مشروع ہے ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے : (( ثُمَّ صَلُّوْا عَلَیَّ)) البتہ ایک گروہ کا خاص الفاظ اور خاص انداز میں اذان کے بعد درُود پڑھنا کتاب و سنت سے ثابت نہیں ۔ ۱۰؍۳؍۱۴۲۲ھ [حضرت عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم مؤذن کی آواز سنو تو مؤذن کو جواب دو اور جب اذان ختم ہوجائے تو پھر مجھ پر درُود بھیجو ۔ پس تحقیق جو مجھ پر ایک بار درُود بھیجتا ہے اللہ اس پر دس بار رحمت بھیجتا ہے۔ ] [2] س: ہماری مسجد میں اوقات نماز کا نقشہ جو حافظ محمد گوندلوی رحمۃ اللہ علیہ نے ترتیب دیا ہے آویزاں ہے ، مؤذن اسی نقشہ سے ٹائم دیکھ کر اذان کہتا ہے ، فجر کی اذان فجر طلوع سے دس منٹ پہلے کہتا ہے ، جب اسے کہا گیا کہ آپ جو اوقات نماز کے نقشے پر طلوع فجر ہے اس سے پہلے ہی اذان کہہ دیتے ہیں تو کہتا ہے یہ نقشہ تو [1] بخاری ؍کتاب الاذان [2] مسلم؍الصلاۃ؍باب استحباب القول مثل قول المؤذن