کتاب: قرآن وحدیث کی روشنی میں احکام و مسائل - صفحہ 169
جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو کوئی کام مشکل اور غم میں ڈال دیتا تو آپ نماز پڑھاکرتے ، فوراً نماز میں لگ جاتے۔ [1] علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ بدر کی لڑائی کی رات میں نے دیکھا کہ ہم سب سو گئے تھے مگر اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ساری رات نماز میں مشغول رہے ، صبح تک نماز میں اور دعا میں لگے رہے ۔ [2] عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ کو سفر میں اپنے بھائی قثم رضی اللہ عنہ کے انتقال کی خبر ملتی ہے تو آپ نے اِنَّا لِلّٰہِ پڑھ کر راستہ سے ایک طرف ہٹ کر اونٹ بٹھا کر نماز شروع کر دیتے ہیں اور بہت لمبی نماز ادا کرتے ہیں ۔پھر اپنی سواری کی طرف جاتے ہیں اور آیت پڑھتے ہیں : ﴿وَاسْتَعِیْنُوْا بِالصَّبْرِ وَالصَّلوٰۃِ وَاِنَّھَا لَکَبِیْرَۃٌ اِلاَّ عَلَی الْخٰشِعِیْنَ﴾ [البقرۃ :۴۵] ’’صبر اور نماز کے ساتھ مدد طلب کرو یہ بڑی چیز ہے مگر ڈر رکھنے والوں پر۔‘‘ [3] مصیبت اور پریشانی کی حالت میں صبر اور نماز کو اپنا شعار بنانے کا حکم دیا گیا ہے کہ اللہ کی یاد میں جس قدر طبیعت مصروف ہو اسی قدر دوسری پریشانیاں خود بخود کم ہو جاتی ہیں ۔] ۲۹؍۴؍۱۴۲۴ھ اذان و اقامت س: اذان کہتے وقت کانوں میں اُنگلیاں رکھی جاتی ہیں کیا ہاتھ کھلے چھوڑ کر بھی اذان کہی جا سکتی ہے یا نہیں ؟(محمد یونس ، شاکر) ج: وہ روایت جس میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بلال رضی اللہ عنہ کو کانوں میں اُنگلیاں رکھنے کا حکم و امر کا ذکر ہے ضعیف ہے البتہ ابو جحیفہ رضی اللہ عنہ کی راویت : (( رَأَیْتُ بِلَا لًا یُوْذِّنُ وَیَدُوْرُ ، وَیُتْبِعُ فَاہُ ھٰھُنَا وَھٰھُنَا وَ اِصبَعَاہُ فِی أُذُنَیْہِ وَرَسُوْلُ ا للّٰه صلی ا للّٰه علیہ وسلم فِیْ قُبَّۃٍ لَّہُ حَمْرَآئَ)) حدیث صحیح ہے ۔ مسند احمد اور ترمذی میں موجود ہے۔ [میں نے بلال رضی اللہ عنہ کو دیکھا وہ اذان کہتے اور پھرتے اور اپنے منہ کو دائیں اور بائیں موڑتے اور آپ کی اُنگلیاں آپ کے کانوں میں تھیں اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے سرخ خیمہ میں تھے۔][4] ۲۴؍۱۲؍۱۴۲۱ھ س: تہجد کی اذان ثابت ہے یا نہیں ؟ (قاری محمد عبداللہ ،لاہور) [1] ابو داؤد؍کتاب الصلاۃ؍باب وقت قیام النبیؐ من اللیل ۔ مسند احمد [2] احمد:۱؍۱۳۸ [3] حاکم:۲؍۲۶۹؍۲۷۰ [4] جامع الترمذی؍ابواب الصلاۃ؍ باب ما جاء فی ادخال الاصبع الأذن عند الأذان