کتاب: قرآن وحدیث کی روشنی میں احکام و مسائل - صفحہ 167
یعنی کہ نا گزیر قسم کے حالات میں حالت اقامت میں بھی دو نمازیں جمع کر کے پڑھی جا سکتی ہیں تاہم شدید ضرورت کے بغیر ایسا کرنا جائز نہیں ہے جیسے کاروباری لوگوں کا عام معمول ہے کہ وہ سستی یا کاروباری مصروفیت کی وجہ سے دو نمازوں کو جمع کر لیتے ہیں یہ صحیح نہیں ۔ بلکہ سخت گناہ ہے ہر نماز کو اس کے وقت پر ہی پڑھنا ضُروری ہے سوائے نا گزیر حالات کے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بارش کے موقع پر مؤذن کو فرماتے کہ وہ کہے (( اَلَا صَلُّوْا فِیْ رِحَالِکُمْ)) ’’خبردار! گھروں میں نماز پڑھو۔‘‘][1] س: ایک آدمی ظہر کی نماز عصر کی اذان کے بعد پڑھتا ہے تو کیا وہ چار رکعت ہی پڑھے گا یا دو رکعت اور ظہر اور عصر کی نماز مغرب کی نماز کے بعد پڑھے تو چار چار رکعت یا دو دو رکعت ہو گی؟ ایک آدمی کی عادت ہی اکٹھی نماز پڑھنے کی ہے تو کیا وہ پورے فرض نماز کی ادائیگی کرے گا یا دو دو اور تین تین مغرب پڑھے گا؟(سہیل سلیم ،یونان) ج: کام کی وجہ سے نماز کا وقت نکال دینا درست نہیں ﴿اِنَّ الصَّلَاۃَ کَانَتْ عَلَی الْمُؤْمِنِیْنَ کِتَابًا مَّوْقُوْتًا﴾ [النساء:۱۰۳][’’ یقینا نماز مومنوں پر مقررہ وقتوں پر فرض ہے۔‘‘]البتہ سفر میں بوجہ سفر ظہر اور عصر جمع کر سکتا ہے ۔ اسی طرح مغرب اور عشاء جمع کر سکتا ہے ۔ تقدیم و تاخیر دونوں درست ہیں البتہ حضر میں نہ جمع تقدیم ثابت ہے اور نہ ہی جمع تاخیر۔ ہاں حضر میں کبھی کبھار جمع صوری سے کام لے سکتا ہے۔ حضر میں نماز کا وقت نکل جانے کے بعد حضر والی پوری نماز پڑھی جائے گی نہ کہ صرف فرض رکعات اور نہ ہی قصر صرف دو رکعات۔ پورے فرض، سنن و نوافل سمیت پڑھے جائیں گے کیونکہ یہ حضرہے سفر نہیں ۔ ۲۴؍۶؍۱۴۲۲ھ س: گزارش ہے کہ میں کالج کا طالب علم ہوں ، پڑھائی کے دوران میری ظہر اور عصر کی اوّل وقت با جماعت نماز رہ جاتی ہے ۔ اوّل وقت نماز ادا کرنا میرے لیے بہت مشکل ہے ۔ میرے لیے کیا حکم ہے؟ (فیصل اسلم) ج: مشکل نہیں ، ہمت کریں تو بات بن جائے گی۔ان شاء اللہ تعالیٰ ۱۴؍۱؍۱۴۲۴۱ھ س: بھوک کی شدت کی صورت میں پہلے کھانا کھائے یا نماز پڑھے؟ جب وقت ہو جائے۔(حامد رشید) ج: کھانا لا کر سامنے رکھ دیاگیا ہے تو کھانا پہلے کھائے۔ [رسو ل اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب رات کا کھانا تیار ہو اور نماز بھی کھڑی ہو جائے تو کھانا پہلے کھاؤ۔ [2] [1] ابو داؤد؍کتاب الصلاۃ؍باب التخلف عن الجماعۃ فی اللیلۃ الباردۃ [2] بخاری؍کتاب الاذان؍باب اذا حضر الطعام وأقیمت الصلاۃ۔ مسلم؍کتاب المساجد؍باب کراھیۃ الصلاۃ بحضرۃ الطعام۔ ترمذی؍ابواب الصلاۃ؍باب ما جاء إذا حضرت العشاء وأقیمت الصلاۃ؍فابدأ و ا بالعشاء]