کتاب: قرآن وحدیث کی روشنی میں احکام و مسائل - صفحہ 157
اگر پاؤں کی میل کچیل صاف نہ ہو تو چاہے سات مرتبہ دھونا پڑے دھو لیں ۔ جبکہ دوسری حدیث میں ہے : اسراف سے بچو خواہ تم جاری نہر پر ہو۔ قرآن و سنت کی رو سے واضح کریں ؟ (ماسٹر عبدالرؤف) ج: اسباغ وضوء کا مطب وصوء مکمل کرنا پورا کرنا ہی ہے ۔ جس جگہ کا دھونا فرض ہے وہ خشک نہ رہے۔ دو دفعہ دھونا تین دفعہ دھونا بھی اسباغ وضوء میں داخل ہے البتہ تین دفعہ سے زیادہ دھونا اسباغ وضوء میں شامل نہیں کیونکہ اسباغ وضوء ماموربہ ہے۔(( اَسْبِغُو الوُضُوئَ)) جبکہ تین دفعہ سے زیادہ دھونا إساء ۃ ، تعدی اور ظلم ہے ۔ نسائی اور ابن ماجہ میں حدیث ہے: (( عَنْ عَمْرِ وبْنِ شُعَیْبٍ عَنْ اَبِیْہِ عَنْ جَدِّہٖ قَالَ : جَائَ أَعْرَابِیُّ إِلَی النَّبِیِّ صلی ا للّٰه علیہ وسلم یَسْاَلُہٗ عَنِ الْوُضُوئِ فَاَرَاہُ ثَلَاثًا ثَلَاثًا ، ثُمَّ قَالَ : ھٰکَذَا الوُضُوْئُ ، فَمَنْ زَادَ عَلَی ھٰذَا فَقَدْ أَسَائَ ، وَتَعَدّٰی وَ ظَلَمَ)) [ایک اعرابی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا ، وضوء کی کیفیت دریافت کی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے اعضاء کا تین تین بار دھونا دکھایا اور فرمایا اس طرح ہے(کامل) وضوء، پھر جو شخص اس پر (تین تین بار دھونے پر) زیادہ کرے پس تحقیق اس نے بُرا کیا اور زیادتی کی اور ظلم کیا۔ ] [1] باقی (( وإن کنت علی نہر جار))والی بوجہ ابن لہیہ کمزور ہے۔ ۹؍۱۲؍۱۴۲۳ھ نواقض وضوء س: وضوء کر کے سگریٹ پینے سے وضوء ٹوٹ جاتا ہے یا نہیں ؟ (قاسم بن سرور) ج: الاعتصام جلد :۵۴، شمارہ : ۳۵ مؤرخہ ۲۷جمادی الثانیہ ص:۱۲؍۱۲۳۳ کالم نمبر ۱، میں حافظ ثناء اللہ صاحب مدنی حفظہ اللہ لکھتے ہیں :’’میرے خیال میں الکحل والی دوائی کے استعمال کے بعد دوبارہ وضوء کرنا چاہیے کیونکہ مستی اور بے ہوشی ناقض وضوء ہے خواہ کسی نشہ آور چیز سے ہو نیند سے ہو یا مرض سے بے ہوشی ہونے پر وضوٹوٹ جائے گا ان اشیاء کے ناقض وضوء ہونے پر علما کا اتفاق ہے۔(شرح مسلم نووی :۴؍۷۴) علامہ شوکانی نے ان اشیاء کو نیند پر قیاس کیا ہے۔(السیل الجرار:۱؍۹۶)معلوم ہے کہ حقہ ، سگریٹ، تمباکو اور نسوار وغیرہ بھی مسکرات میں شامل ہیں تو ان کا حکم بھی الکحل والا ہے یاد رہے تمام مسکرات حرام ہیں ۔ س: جناب محترم حافظ صاحب میں آپ کی کتاب ’’احکام و مسائل ‘‘ کا مطالعہ کر رہا تھا جس کے اندر ابو داؤد کی یہ حدیث درج تھی ، آپ اس حدیث کی وضاحت کر دیں وہ حدیث یہ تھی: [1] نسائی:۱؍۸۸۔ ابن ماجہ:۴۲۲۔ ابوداؤد:۱۳۵