کتاب: قرآن وحدیث کی روشنی میں احکام و مسائل - صفحہ 154
[عبداللہ بن زید فرماتے ہیں : بلا شبہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے وضوء کیا تو چہرے کو تین بار او ر ہاتھوں کو دو دو بار دھویا اور سر کا مسح کیا۔ [1] امام ترمذی فرماتے ہیں : اس حدیث کے علاوہ دوسری حدیث میں مذکور ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے وضوء کرتے وقت بعض اعضاء کو ایک ایک بار اور بعض کو تین تین بار دھویا۔][2] ۹؍۸؍۱۴۲۳ھ س: وضوء میں کانوں کے مسح کے لیے نیا پانی لینا چاہیے یا کہ مسح راس والا پانی کافی ہے؟ (فیصل اسلم) ج: مسح رأس والا پانی کانوں کے مسح کے لیے کافی ہے کانوں کے لیے نیا پانی لینے والی کوئی ایک بھی روایت صحیح نہیں ۔ [رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:کانوں کا تعلق سر سے ہے ۔(دار قطنی:۱؍۹۸) اس حدیث کا مطلب یہ ہے کہ کانوں کے مسح کے لیے نئے پانی کی ضرورت نہیں ہے ۔ اس حدیث کو شیخ البانی ؒ نے صحیح کہا ہے ۔ (سلسلہ صحیحہ:۳۶۰) کانوں کے مسح کے لیے نیا پانی لینے والی روایت کو حافظ ابن حجرؒ نے شاذ کہا ہے۔(بلوغ المرام، باب الوضوء)] ۱۷؍۴؍۱۴۲۴ھ س: وضو شروع کرنے سے پہلے ہاتھ منہ اور پاؤں کا دھونا اور وضوء میں ترتیب کا خیال نہ رکھنا اور اعضاء وضوء تین سے زیادہ مرتبہ دھونا اور وضوء پندرہ بیس منٹ میں کرنا کیسا ہے؟ (محمد سلیم بٹ) ج: وضو شروع کرنے سے پہلے ہاتھ منہ اور پاؤں کو دھونا کسی خاص ضرورت کے تحت ہو تو معاملہ دوسرا ہے ، اسے وضو کا مسئلہ بنانا درست نہیں کیونکہ ایسا کرنا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت نہیں ۔ صحابہ کرام(رضی اللہ عنہم )مثلاً عبداللہ بن زید بن عاصم مازنی ، عبداللہ بن عباس اور عثمان بن عفان رضی اللہ عنہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے وضوء میں ترتیب کا ذکر فرمایا ہے ۔ اس لیے وضوء میں ترتیب کا خیال و اہتمام کرنا ہو گا۔ اعضاء وضوء کو تین تین دفعہ سے زیادہ دھونا ممنوع و گناہ ہے ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسے لوگوں کے متعلق تین لفظ استعمال فرمائے ہیں : ((فَقَدْ أَسَائَ وَتَعَدّٰی وَظَلَمَ)) کہ انہوں نے برا کیا ، زیادتی کی اور ظلم کیا ۔‘‘[3]وضوء کی تکمیل پر وقت کی تحدید اور تعیین کہیں نہیں آئی ، نہ پندرہ منٹ کی، نہ بیس منٹ کی اور نہ ہی پانچ دس منٹ کی ، ہاں احسان وضوء اور اسباغ [1] مسلم؍کتاب الطہارۃ؍باب آخر فی صفۃ الوضوء۔ ترمذی؍ابواب الطہارۃ؍ باب فیمن یتوضأ بعض وضوئہ مرتین و بعضہ ثلاثاً۔ صحیح ابی داؤد:۱۰۹ [2] ترمذی؍الطہارۃ؍باب ما جاء فی تخلیل اللحیۃ، ترمذی الطہارۃ؍باب فی تخلیل الاصابع ۔ ابن ماجہ ؍الطہارۃ؍باب تخلیل الاصابع [3] أبو داؤد؍الطہارۃ؍باب الوضوء ثلاثاً ثلاثًا