کتاب: قرآن وحدیث کی روشنی میں احکام و مسائل - صفحہ 153
سطر ، اور لفظ اللہ ایک سطر تھی۔ ] [1] اور آپ بیت الخلا جاتے وقت اس کو اُتاردیا کرتے تھے۔نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب بیت الخلاء داخل ہوتے تو انگوٹھی اُتار دیتے تھے۔][2] ۲۹؍۴؍۱۴۲۴ھ وضو کا بیان س: جس نے وضو سے پہلے بسم اللہ نہ پڑھی اس کا وضو نہیں کیا یہ حدیث صحیح ہے؟ (محمد امجد میر پور) ج: حسن لغیرہ ہے۔[ابو داؤد؍باب التسمیۃ علی الوضوء حدیث:۱۰۱، اسے حافظ منذری وغیرہ نے شواہد کی بنا پر حسن کہا ہے۔ اگر بسم اللہ بھول گئی اور وضو کے دوران یاد آ ئی تو فوراً پڑھ لے۔ورنہ وضو دوبارہ کرنے کی ضرورت نہیں کیونکہ بھول معاف ہے۔] ۱۴؍۸؍۱۴۲۱ھ س: وضوء نماز کے لیے ہو یا غسل جنابت کے لیے بسم اللہ پڑھنا ضروری ہے ۔ یا نہیں بسم اللہ پڑھیں یا بسم اللہ الرحمن الرحیم۔ (محمد سلیم بٹ) ج: حدیث ہے: (( لا وضوء لمن لم یذکر اسم ا للّٰه علیہ)) ’’اس کا کوئی وضوء نہیں جس نے اس پر اللہ کا نام ذکر نہ کیا۔‘‘یہ حدیث حسن لغیرہ ہے۔ بسم اللہ پڑھ لے کافی ہے۔بسم اللہ الرحمن الرحیم بھی پڑھ سکتا ہے کیونکہ یہ بھی اللہ کا نام ہی ہے۔ [3] ۱۳؍۱۱؍۱۴۴۲۳ھ س: زید وضو کرتا ہے کوئی اعضاء ایک بار اور کوئی تین بار اور کوئی دو بار دھوتا ہے اور نہ داڑھی کا خلال کرتا ہے اور نہ ہی پیروں کی انگلیوں کا خلال کرتا ہے اور پوچھنے پر کہتا ہے کہ اس طرح بھی وضوء کرنا جائز ہے۔ کیا اس طرح اس کا وضوء ہو جائے گا؟ (قاری محمد یعقوب گجر) ج: وضوء میں کوئی عضو ایک بار کوئی دو بار اور کوئی تین بار دھونے سے وضوء ہو جائے گا۔ انسان گناہ گار بھی نہیں ہو گا کیونکہ فرض ایک ایک بار دھونا ہے ۔ دو دو بار یا تین تین بار دھونا فرض نہیں ،صرف فضیلت یا زیادہ فضیلت سے محرومی اور ترکِ سنت والی بات ہے ۔ البتہ وضوء میں داڑھی کا خلال نہ کرنا نیز ہاتھ پاؤں کی انگلیوں کا خلال نہ کرنا جرم و گناہ ہے کیونکہ داڑھی کا خلال اور ہاتھ پاؤں کی اُنگلیوں کا خلال فرائض وضوء میں شامل ہیں ۔ [1] بخاری؍کتاب اللباس۔ مسلم؍کتاب اللباس والزینۃ۔ ترمذی؍ابوا ب اللباس [2] ترمذی؍ابواب اللباس ؍باب ما جاء فی نقش الخاتم وقال الترمذی : ھٰذا حدیث حسن صحیح غریبٌ وقال المنذری الصواب عندی تصحیحہ فان رواتہ ثقات اثبات، تحفۃ الاحوذی [3] ابو داؤد؍الطہارۃ؍باب التسمیۃ علی الوضوء