کتاب: قرآن وحدیث کی روشنی میں احکام و مسائل - صفحہ 151
[جس میں عورت ہر نماز کے لیے وضو کرتی ہے] واللہ اعلم ۱۰؍۷؍۱۴۲۳ھ س: ایک بندہ ہے اس کو احتلام ہو جاتا ہے اور اس کو علم نہیں ہوتا تووہ نماز پڑھ لیتا ہے یعنی پانچ نمازیں جنبی حالت میں ہی ادا کر لیتا ہے ، اس کے لیے کیا حکم ہے؟ ج: اہل علم کے اس مسئلہ میں دو قول ہیں : 1۔دہرانے کی ضرورت نہیں کیونکہ انسان اپنے علم کا مکلف ہے اور صورت مسؤلہ میں اسے علم ہی نہیں ہوا۔ 2۔اس حالت میں جتنی نمازیں پڑھی گئی ہیں ان سب کو دہرائے۔ بہتر یہی ہے کہ دہرا لے ۔ واللہ اعلم ۱....[(( عَنْ زُبَیْرِ بْنِ الصَّلْتِ أَنَّـہٗ قَالَ خَرَجْتُ مَعَ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ اِلَی الْجُرُفِ فَنَظَرَ فَاِذَا ھُوَ قَدِ احْتَلَمَ وَصَلّٰی وَلَمْ یَغْتَسِلْ فَقَالَ وَاللّٰہِ مَا اَرَانِیْ اِلاَّ قَدِ احْتَلَمْتُ وَمَا شَعُرْتُ وَصَلَّیْتُ وَمَا اغْتَسَلْتُ قَالَ فَاغْتَسَلَ وَغَسَلَ مَا رَاٰی فِیْ ثَوْبِہٖ وَنَضَحَ مَالَمْ یَرَوَ اَذَّنَ اَوْ اَقَامَ ثُمَّ صَلَّی بَعْدَ ارْتِفَاعِ الضُّحٰی مُتَمَکِّنًا)) ’’زبیر بن صلت سے روایت ہے کہ نکلا میں ساتھ عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے جرف تک تو دیکھا عمر رضی اللہ عنہ نے اپنے کپڑے کو اور پایا نشان احتلام کا اور نماز پڑھ چکے تھے بغیر غسل کے ۔ تب کہا قسم اللہ کی ! نہیں دیکھتا ہوں میں اپنے آپ کو مگر مجھے احتلام ہوا اور خبر نہ ہوئی اور نماز پڑھ لی۔ کہا زبیر نے پس غسل کیا حضرت عمررضی اللہ عنہ نے اور دھو یا نشان جو دکھائی دیا کپڑے میں اور جو نہ دکھائی دیا اس پر پانی چھڑک دیا اور اذان کہی یا اقامت کہی پھر نماز پڑھی جب آفتاب بلند ہو گیا اطمینان سے۔ [1] ۲۔(( عَن سُلَیْمَانَ بْنِ یَسَارٍ اَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ غَدَا اِلیٰ اَرْضِہٖ بِالْجُرُفِ فَوَجَدَ فِیْ ثَوْبِہٖ اِحتِْلَامًا فَقَالَ لَقَدِ ابْتُلِیْتُ بِالْاِحْتِلَامِ مُنْذُوُلِّـیْتُ اَمْرَ النَّاسِ فَاغْتَسَلَ وَغَسَلَ مَا رَاٰی فِیْ ثَوْبِہٖ مِنْ اِحْتِلَامٍ ثُمَّ صَلّٰی بَعْدَ اَنْ طَلَعَتِ الشَّمْسُ)) ’’سلیمان بن یسار سے روایت ہے کہ عمر بن خطاب صبح کو گئے اپنی زمین کو جو جُرف میں تھی پس دیکھا اپنے کپڑے میں نشان احتلام کا ، پھر کہا میں مبتلا ہو گیا احتلام میں جب سے خلیفہ بنا ، پھر غسل کیا اور دھویا جو نشان پایا اپنے کپڑے میں احتلام کا پھر نماز پڑھی جب آفتاب نکل آیا۔ ۳۔(( عَنْ سُلَمْانَ بْنِ یَسَارٍ اَنَّ عُمَرَ ابْنَ الْخَطَّابِ صَلّٰی بِالنَّاسِ الصُّبْحَ ثُمَّ غَدَا اِلیٰ [1] المؤطا لامام مالک ؍کتاب الصلوٰۃ؍ باب اعادۃ الجنب الصلوٰۃ وغسلہ اذا صلی ولم یذکر وغسلہ ثوبہ