کتاب: قرآن وحدیث کی روشنی میں احکام و مسائل - صفحہ 149
’’بے شک جبریل صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس آئے اور خبر دی بے شک ان دونوں جوتوں میں نجاست ہے اور فرمایا جب تم میں سے کوئی مسجد میں آئے پس وہ دیکھ لے اگر وہ اپنے جوتوں میں نجاست دیکھے یا گندگی تو اسے رگڑکر صاف کر لے اور ان میں نماز پڑھ لے۔][1] ۱۷؍۴؍۱۴۲۴ھ س: ایک آدمی بھول کر اپنے سر پر غسل جنابت کے دوران چار اوک پانی ڈال دیتا ہے ، غسل کرلینے کے بعد اسے یاد آتا ہے کہ میں نے ایک مرتبہ زیادہ دھو لیا ہے۔ کیا اب اس پر غسل دھرانا ضروری ہے یا اس کی یہ بھول معاف ہے؟ (فیصل اسلم) ج: غسل درست ہے آیندہ ایسا نہ کرے۔ [نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’میری اُمت کی بھول چوک معاف ہے اور جو کام زبردستی کرائے جائیں وہ بھی معاف ہیں ۔‘‘ ] [2] ۱۷؍۴؍۱۴۲۴ھ س: ایک عالم نے مسئلہ بتایا کہ حدیث میں ہے کہ غسل جنابت میں وضو کے بعد سر پر تین اوک پانی ڈالنے سے پہلے ہاتھ گیلے کر کے اچھی طرح سر کے بالوں میں پھیرنے چاہئیں ، کیا یہ درست ہے؟ (فیصل اسلم) ج: عالم صاحب کی بتائی ہوئی حدیث صحیح ہے ۔ ام المؤمنین عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے۔ [عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب جنابت کا غسل شروع کرتے تو پہلے اپنے ہاتھ دھوتے ، پھر دائیں ہاتھ سے بائیں ہاتھ پر پانی ڈال کر اپنی شرم گاہ دھوتے ، پھر وضوء کرتے ، پھر پانی لے کر سر کے بالوں کو تر کرتے ، پھر تین لپ پانی کے بھر کر سر پر ڈالتے ، پھر اپنے سارے وجود کو دھوتے ، پھر اپنے پاؤں دھوتے۔ ] [3] ۱۷؍۴؍۱۴۲۴ھ س: میرے ساتھ کچھ عرصہ سے یہ مسئلہ در پیش ہے کہ وضو اور غسل کے دوران یا بعد میں مجھے یاد نہیں رہتا کہ میں نے یہ عضو دھویا تھا کہ نہیں ۔ وضو دہرانے سے میری کیفیت بڑھتی چلی جاتی ہے ۔ وضو اور غسل جنابت میں ایسی حالت میں میرے لیے کیا حکم ہے؟ 2....غسل جنابت میں ایک عضو کو دھو لیا ہے اس کے بعد دوسرے اعضاء کو دھوتے ہوئے اگر پہلا عضو خشک ہو جائے [1] سنن أبی داؤد؍کتاب الصلاۃ ؍ باب الصلاۃ فی النعل [2] ابن ماجہ ؍کتاب الطلاق؍باب الطلاق المکرہ والناسی ۔ مشکوٰۃ؍کتاب المناقب؍باب ثواب ھذہ الامۃ الفصل الثالث [3] بخاری؍ کتاب الغسل ؍باب الوضوء قبل الغسل ۔ مسلم واللفظ لمسلم