کتاب: قرآن وحدیث کی روشنی میں احکام و مسائل - صفحہ 148
ج: غسل دے سکتی ہے ۔ام المؤمنین عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اعتکاف میں ہوتے سر مبارک مسجد میں کھڑے ہو کر باہر کرتے ، میں آپ کا سر مبارک دھو دیا کرتی تھی در انحالیکہ میں حیض والی ہوتی۔ [1] ۲۴؍۶؍۱۴۲۳ھ س: میت کو غسل کرانے والے کو غسل کرنا چاہیے یا نہیں ؟ کیونکہ درج ذیل دو احادیث میں تضاد ہے: (( قال رسول ا للّٰه صلی ا للّٰه علیہ وسلم من غسل میتا فلیغتسل)) ’’جو میت کو غسل دے وہ خود عسل کرے۔‘‘ [2] (( قال رسول ا للّٰه لی ا للّٰه علیہ وسلم لیس علیکم فی غسل میتکم غسل اذا غسلتموہ فانہ میتکم لیس بنجس فحسبکم ان تغلسوا ایدیکم)) ’’میت کو غسل دینے میں تم پر غسل نہیں ہے جب تم اسے غسل دو ، پس بے شک وہ تمہاری میت ہے نجس نہیں ہے ، پس تمہیں یہی کافی ہے تم ہاتھوں کو دھولو۔‘‘ [صحیح الجامع الصغیر للألبانی: ۲؍۹۵۲] (محمد حسین ، کراچی) ج: آپ کی درج کردہ دونوں حدیثوں میں کوئی تضاد نہیں ۔ دوسری حدیث((لیس علیکم .....الخ)) قرینۂ و دلیل ہے کہ پہلی حدیث میں (( فلیغتسل)) امر ندب ہے امرِ وجوب نہیں ۔ ۱۷؍۱۰؍۱۴۲۲ھ س: ایک آدمی کو غسل جنابت کے ایک رکن کاپتہ نہ تھا ، اس نے اپنے طریقے سے غسل کیا اور لاعلم رہا ، تھوڑی دیر بعد اسے مسئلہ معلوم ہو گیا ۔ کیا اس کے لیے ضروری ہے کہ غسل دھرائے یا لا علمی کی وجہ سے معاف ہے؟ (فیصل اسلم) ج: لا علمی کی وجہ سے معاف ہے آیندہ ایسا نہ کریں ۔دلیل ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کی پلید جوتوں میں لا علمی کی صورت میں نماز پڑھنے والی مرفوع حدیث۔ [ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے اصحاب کو نماز پڑھا رہے تھے کہ آپ نے اپنے جوتوں کو اُتارا اور بائیں طرف رکھ دیا ۔ پس جب لوگوں نے بھی دیکھا تو انہوں نے بھی جوتے اُتار دیے ، پس جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز کو مکمل کیا تو فرمایا’’ تمہیں کس چیز نے جوتے اُتارنے پر اُبھارا ؟‘‘ انہوں نے کہا: ہم نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا آپ نے اپنے جوتے اُتار دیے تو ہم نے بھی اُتار دیے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [1] بخاری؍کتاب الحیض؍باب مباشرۃ الحائض [2] رواہ الترمذی وصححہ ابن حزم نیل الاوطار۱؍۹۰۷