کتاب: قرآن وحدیث کی روشنی میں احکام و مسائل - صفحہ 145
(۱؍۱۶۱) ۸؍۳؍۱۴۲۴ھ س: کیا آدمی بغیر وضو کے قرآن کو چھو سکتا ہے۔(شاہد سلیم، لاہور) ج: اس کا جواب بعض اہل علم کے ہاں نفی میں ہے اور بعض کے ہاں اثبات میں بہتریہی ہے کہ قرآن مجید کو باوضوء ہو کر چھوئے۔ [نبیؐ نے فرمایا: نہ چھوئے قرآن کو مگر پاک ] [1] ۲۴؍۶؍۱۴۲۳ھ س: اگر کسی پانی میں نجاست ، گندگی وغیرہ ہو اور وہ پانی بہہ کر چند کلومیٹر آگے جاتا ہے ۔ پھر کیا اس نجاست یاگندگی والے پانی کو بندہ استعمال کر سکتا ہے حالانکہ نہ تو اس پانی کا رنگ تبدیل ہوا نہ کوئی بو نہ ذائقہ ۔ (سجاد الرحمن شاکر) ج: حدیث قُلَّتَیْنِ اور حدیث اَلْمَائُ طَھُوْرُ لاَ یُنَجِّسُہُ شَیْئٌ کی روشنی میں پانی دیکھ کر فیصلہ فرما لیں ۔ [رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا گیا کیا ہم بضاعہ کے کنویں سے وضو کر سکتے ہیں یہ ایسا کنواں ہے جس میں بدبو دار اشیاء پھینکی جاتی ہیں ۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: پانی پاک ہے اسے کوئی چیز ناپاک نہیں کرتی۔][2] معلوم ہوا کہ کنویں کا پانی پاک ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب پانی کی مقدار قُلّتَیْنِ (۲۲۷کلو گرام)ہوتی ہے تو وہ نجاست کو نہیں اُٹھاتا۔[3] یعنی کسی نجاست کے گرنے سے اس کا وصف (رنگ بو یا ذائقہ) تبدیل نہیں ہوتا لیکن اگر اس سے کم مقدار والے ساکن پانی میں نجاست گر جائے تو اس سے وضو یا غسل نہ کرنا چاہیے خواہ اس کا وصف تبدیل ہو یا نہ ہو اور اگر ۲۲۷ کلو گرام سے زائد پانی ہو اور اس کا وصف بدل جائے تو ناپاک ہے ورنہ پاک ہے] ۹؍۱؍۱۴۲۴ھ س: جس شخص کو ہر وقت کا ابتلاء نہ ہو ،پیشاب کرنے کے بعد تھوڑی دیر تک پیشاب کے قطرے بہتے ہوں اس کے بعد بند ہو جاتے ہوں ، ایسا شخص عذر دور ہونے کے انتظار میں نماز میں تاخیر کرے یا اوّل وقت میں باجماعت نماز ادا کر لے اگرچہ وضو کے بعد قطرے آ جائیں ۔جسے ہر وقت کا ابتلاء ہو کیا صرف وہی شخص سلسل کی حالت میں نماز ادا کر سکتا ہے؟ (وقار علی ، لاہور) [1] مؤطا امام مالک کتاب القرآن ؍باب الامر بالوضوء لمن مس القرآن ، حاکم ۱؍۳۹۵۔۳۹۷ [2] ابو داؤد؍الطہارۃ؍باب ما جاء فی بئر بضاعۃ، ترمذی؍الطہارۃ؍باب ما جاء ان الماء لا ینجسہ شیء [3] رواہ احمدو ابو داؤد والترمذی والنسائی والدارمی و ابن ماجہ؍بحوالہ المشکٰوۃ ؍کتاب الطہارۃ ؍باب المیاہ ؍الفصل الثانی