کتاب: قرآن وحدیث کی روشنی میں احکام و مسائل - صفحہ 138
غسل کا بیان س: کیا بغیر وضوء قرآن پڑھنا ، ذکرکرنا ، درُود پڑھنا جائز ہے؟ ج : ہاں درُست ہے۔جیسا کہ حدیث بیتوتہ اور (( یَذْکُرُ ا للّٰه عَلیٰ کُلِّ اَحْیَانِہٖ)) سے ثابت ہوتا ہے۔ [حدیث بیتوتہ:] عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے خبردی کہ انہوں نے ایک رات رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ مطہرہ اور اپنی خالہ حضرت میمونہ رضی اللہ عنہا کے گھر میں گزاری۔(وہ فرماتے ہیں کہ) میں تکیہ کے عرض(یعنی گوشہ) کی طرف لیٹ گیا اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کی اہلیہ نے (معمول کے مطابق) تکیہ کی لمبائی پر(سر رکھ کر) آرام فرمایا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سوتے رہے اور جب آدھی رات ہو گئی یا اس سے کچھ پہلے یا اس کے کچھ بعد آپ بیدار ہوئے اور اپنے ہاتھوں سے اپنی نیند کو دور کرنے کے لیے آنکھیں ملنے لگے۔ پھر آپ نے سورۂ آلِ عمران کی آخری دس آیتیں پڑھیں ، پھر ایک مشکیزہ کے پاس جو ( چھت میں ) لٹکا ہوا تھا۔ آپ کھڑے ہو گئے اور اس سے وضوء کیا خوب اچھی طرح ۔پھر کھڑے ہو کر نماز پڑھنے لگے۔ ابن عباس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں میں نے بھی کھڑے ہو کر اسی طرح کیا جس طرح آپ نے وضوء کیا تھا ، پھر جا کر میں بھی آپ کے پہلو ئے مبارک میں کھڑا ہو گیا۔ [1] [عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ آپ نے فرمایا نبی صلی اللہ علیہ وسلم ہر وقت اللہ عزوجل کا ذکر کرتے۔] [2]۷؍۲؍۱۴۲۳ھ س: احکام و مسائل ص:۹۷ ، جلد اوّل میں آپ نے یہ روایت درج کی ہے:(( لا یمس القرآن الا طاھر)) اس کی سند میں سلیمان بن داؤد راوی ہے اس کے بارے میں امام ذہبی رحمہ اللہ لکھتے ہیں : (( قال ابن معین لا یُعرف والحدیث لا یصحُّ وقال مرۃ لیس بشیئٍ وقال مرۃ شامي ضعیف وقال عثمان بن سعید سلیمان بن داؤد الخولانی یروی عن یحییٰ بن حمزۃ ضعیف)) اور مذکورہ روایت یحییٰ بن حمزہ سے مروی ہے۔ (میزان الاعتدال) تو اب اس روایت سے کیا استدلال جائز ہے؟ (ابو عکاشہ عبداللطیف) [1] صحیح بخاری؍کتاب الوضوء؍باب قراء ۃ القرآن بعد الحدث وغیرہ [2] مسلم ، بحوالہ مشکوٰۃ؍کتاب الطہارۃ؍باب مخالطۃ الجنب و مایباح لہ