کتاب: قرآن وحدیث کی روشنی میں احکام و مسائل - صفحہ 137
ج: اگر کثرت و جمہوریت کو قرآن مجید اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت و حدیث پر مقدم سمجھا جائے تو یہ باتیں درست ہیں ۔ ۵ ؍ ۱ ؍ ۱۴۲۴ھ س: ہمارے کچھ بھائی کہتے ہیں کہ ہم جمہوریت کے ذریعے اسلام لائیں گے اور کچھ کفر کہتے ہیں آپ اس کی وضاحت فرمائیں ۔(عصمت اللہ حافظ آباد روڈ ، گوجرانوالہ) ج: جس جمہوریت سے قرآن مجید کی کسی آیت یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی احادیث ثابتہ سے کسی حدیث کا ردّ ہو وہ جموریت کفر ہے۔ ۸؍۱۰؍۱۴۲۱ھ س: علم غیب کی تعریف کیا ہے؟ اور اس تعریف کو قرآن و سنت کے دلائل سے ثابت فرمائیں اور اس کا کیا مطلب ہے:﴿عٰلِمُ الْغَیْبِ فَـلَا یُظْھِرُ عَلیٰ غَیْبِہٖ اَحدًاo اِلاَّ مَنِ ارْتَضیٰ مِنْ رَّسُوْلٍ.....الخ﴾ [سورۂ جن] کیا اس سے رسول کے لیے علم غیب ثابت ہوتا ہے ؟ ورنہ اس کا جواب دیں ؟ (محمد شیخ یٰسین) ج: علم غیب ہر چیز کو جاننے کا نام ہے۔ سورۂ لقمان کے آخر میں بیان شدہ پانچ چیزیں اللہ تعالیٰ کے علاوہ کوئی نہیں جانتا ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ((فِیْ خَمْس لَا یَعْلَمُھُنَّ اِلاَّ اللّٰہُ[1])) [پانچ باتیں ہیں جنہیں اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی نہیں جانتا۔]اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿وَعِنْدَہٗ مَفَاتِحُ الْغَیْبِ لَا یَعْلَمُھَآ اِلاَّ ھُوَ﴾[الأنعام:۵۹] [غیب کی کنجیاں اللہ ہی کے پاس ہیں جنہیں بجز اس کے اور کوئی نہیں جانتا۔]خضر علیہ السلام نے فرمایا: ’’کل مخلوقات کا علم اللہ تعالیٰ کے علم کی بنسبت اتنا ہے جتنا چڑیا کی چونچ میں قطرہ سمندر کی بنسبت۔‘‘[2] سورۂ جن والی آیت سے مراد انبیاء و رسول علیہم السلام پر نازل شدہ وحی ہے جیسا کہ اس کے سیاق ، سباق اور لحاق سے واضح ہے۔ ۱۴؍۴؍۱۴۲۳ھ ٭٭٭ [1] احمد:۵؍۳۵۳۔ صحیح بخاری؍ کتاب الاستسقاء ؍باب لا یدری متی یجیٔ المطر الا ا للّٰه تعالیٰ۔ [2] تفسیر ابن کثیر۔ سورۂ کھف