کتاب: قرآن وحدیث کی روشنی میں احکام و مسائل - صفحہ 134
امام موصوف کی بیعت مسجد حرام میں حجر اسود اور مقام ابراہیم کے درمیان ہو گی۔ امام مہدی کی بیعت کو بغاوت سمجھ کر کچلنے کے لیے آنے والا لشکر بیداء کے مقام پر دھنس جائے گا ۔ امام مہدی کی یہ کرامت دیکھ کر عراق اور شام کے علماء فضلاء جوق در جوق امام صاحب کی بیعت کے لیے مکہ مکرمہ پہنچنا شروع ہو جائیں گے ۔ ((عَنْ اُمِّ سَلَمَۃَ رضی ا للّٰه عنہا قَالَتْ: سَمِعْتُ رَسُولَ ا للّٰه صلی ا للّٰه علیہ وسلم : (( یَکُوْنُ اخْتِلاَفُ عِنْدَ مَوْتِ خَلِیْفَۃٍ فَیَخْرُجُ رَجُلٌ مِّنْ بَنِیْ ھَاشِمٍ فَیَاْتِیْ مَکَّۃَ ، فَیَسْتَخْرِجُہُ النَّاسُ مِنْ بَیْتِہٖ بَیْنَ الرُّکْنِ وَالْمَقَامِ فَیُجَھَّزُ اِلَیْہِ جَیْشٌ مِنَ الشَّامِ حَتَّٰی اِذَا کَانُوْا بِالْبَیْدَائِ خُسِفَ بِھِمْ ، فَیَاْتِیْہِ عَصَائِبُ الْعِرَاقِ وَاَبْدَالُ الشَّامِ)) رَوَاہُ الطِّبْرَانِیُّ)) [1] (صحیح) حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ہے: ’’ ایک خلیفہ کی وفات پر لوگوں میں اختلاف ہو جائے گا بنو ہاشم کا ایک آدمی ( مدینہ سے) مکہ آئے گا لوگ اس کو گھر سے نکال کر (مسجد حرام میں ) لے آئیں گے حجراسود اور مقام ابراہیم کے درمیان اس کی بیعت کریں گے شام سے ایک لشکر مکہ مکرمہ پر چڑھائی کے لیے آئے گا جب وہ بیداء کے مقام پر پہنچے گا تو اسے دھنسا دیا جائے گا اس کے بعد عراق اور شام سے علماء وفضلاء امام مہدی کے پاس ( بیعت کے لیے) آئیں گے ۔‘‘ اسے طبرانی نے روایت کیا ہے۔ بیعت لینے کے بعد امام مہدی اپنے ساتھیوں سمیت بیت اللہ شریف میں پناہ لیں گے ۔ ابتداء میں امام موصوف کے ساتھیوں کی تعداد اور وسائل بہت کم ہوں گے اور وہ کسی فوج سے مقابلہ کی طاقت نہیں رکھتے ہوں گے لیکن اللہ تعالیٰ خسف کے ذریعے ان کی مدد فرمائیں گے۔ ((عَنْ حَفْصَۃَ رضی ا للّٰه عنہا اَنَّ رَسُوْلَ ا للّٰه صلی ا للّٰه علیہ وسلم قَالَ: (( سَیَعُوْذُ بِھٰذَا الْبَیْتِ یَعْنِی الْکَعْبَۃَ قَوْمٌ لَّیْسَتْ لَھُمْ مَنْعَۃٌ وَّلاَ عَدَدٌ وَّلاَ عُدَّۃٌ یُبْعَثُ اِلَیْھِمْ جَیْشٌ حَتّٰی اِذَا کَانُوْا بِبَیْدَائَ مِنَ الْاَرْضِ خُسِفَ بِھِمْ)) رَوَاہُ مُسْلِمٌ)) [2] حضرت حفصہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’ ’ اس گھر یعنی کعبۃ اللہ میں کچھ لوگ پناہ لیں گے جن کے پاس دشمن کاحملہ روکنے کی طاقت نہیں ہو گی نہ ان کی تعداد زیادہ ہو گی نہ ان کے [1] مجمع الزاوائد، کتاب الفتن ،باب ماجاء فی المھدی (۷؍۱۲۳۹۹)۔ [2] کتاب الفتن واشراط الساعۃ