کتاب: قرآن وحدیث کی روشنی میں احکام و مسائل - صفحہ 131
ایسی کتاب سنی ہے جو موسیٰ کے بعد نازل ہوئی ہے وہ اپنے سے پہلی کتابوں کی تصدیق کرتی ہے۔ حق اور صراطِ مستقیم کی طرف رہنمائی کرتی ہے۔ اے ہماری قوم! اللہ کی طرف بلانے والے کی بات مان لو اور اس پر ایمان لے آؤ وہ تمہارے گناہ بخش دے گا اور تمہیں المناک عذاب سے بچالے گا۔ اور جو اللہ کی طرف بلانے والے کی بات نہ مانے تو وہ زمین میں اسے عاجز نہیں کرسکتا۔‘‘ ] ﴿قُلْ أُوْحِیَ إِلَیَّ أَنَّہُ اسْتَمَعَ نَفَرٌ مِّنَ الْجِنِّ فَقَالُوْآ إِنَّا سَمِعْنَا قُرْاٰنًا عَجَبًا الخ﴾ [الجنّ:۱][’’ کہیے مجھے وحی ہوئی کہ جنوں کے گروہ نے (قرآن) غور سے سنا ، پھر کہا کہ ہم نے عجیب قرآن سنا ہے۔‘‘ ]جن جنوں اور انسانوں کو بسا اوقات نفع و نقصان بھی پہنچاتے ہیں ۔ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: ﴿وَأَنَّہٗ کَانَ رِجَالٌ مِّنَ الْاِنْسِ یَعُوْذُوْنَ بِرِجَالٍ مِّنَ الْجِنِّ فَزَادُوْھُمْ رَھَقًا o﴾[الجن:۶][’’ اور یہ کہ انسانوں میں سے کچھ لوگ جنوں کے کچھ لوگوں کی پناہ مانگا کرتے تھے، چنانچہ انہوں نے جنوں کے غرور کو بڑھادیا تھا۔‘‘ ] ﴿وَکَذٰلِکَ جَعَلْنَا لِکُلِّ نَبِیٍّ عَدُوًّا شَیَاطِیْنَ الْاِنْسِ وَالْجِنِّ یُوْحِیْ بَعْضُھُمْ إِلٰی بَعْضٍ زُخْرُفَ الْقَوْلِ غُرُوْرًا ﴾[الانعام:۱۱۲][’’ اسی طرح ہم نے شیطان سیرت انسانوں اور جنوں کو ہر نبی کا دشمن بنایا جو دھوکہ دینے کی غرض سے کچھ خوش آئند باتیں ایک دوسرے کو پھونکتے رہتے ہیں ۔‘‘] ﴿یٰمَعْشَرَ الْجِنِّ قَدِ اسْتَکْثَرْتُمْ مِّنَ الْاِنْسِ وَقَالَ أَوْلِیَآئُھُمْ مِّنَ الْاِنْسِ رَبَّنَا اسْتَمْتَعَ بَعْضُنَا بِبَعْضٍ ط الخ﴾ [الانعام:۱۲۸][’’ اے گروہ جن! تم نے بہت سے آدمیوں کو ( اپنا تابع) بنا رکھا تھا اور انسانوں میں سے جنوں کے دوست کہیں گے ، ہمارے رب ہم نے ایک دوسرے سے خوب فائدہ اٹھایا، حتی کہ وہ وقت آگیا جو تو نے ہمارے لیے مقرر کیا تھا۔ اللہ فرمائے گا: تم سب کا ٹھکانا جہنم ہے۔‘‘ ] جن سلیمان علیہ الصلاۃ والسلام کے تابع تھے، اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں : ﴿وَالشَّیَاطِیْنَ کُلَّ بَنَّآئٍ وَّغَوَّاصٍ o وَآخَرِیْنَ مُقَرَّنِیْنَ فِی الْاَصْفَادِ o﴾ [صٓ:۳۷ ، ۳۸][’’ اور شیطان بھی مسخر کردیے جو سب معمار و غوطہ زن تھے اور کچھ دوسرے زنجیروں میں جکڑے ہوئے تھے۔‘‘] نیز فرمایا: ﴿وَمِنَ الْجِنِّ مَنْ یَّعْمَلُ بَیْنَ یَدَیْہِ بِإِذْنِ رَبِّہٖ وَمَنْ یَّزِغْ مِنْھُمْ عَنْ أَمْرِنَا نُذِقْہُ مِنْ عَذَابِ السَّعِیْرِ o یَعْمَلُوْنَ لَہٗ مَا یَشَآئُ ط الخ﴾[سبا:۱۲][’’ اور بعض جن اپنے رب کے حکم سے ان کے سامنے کام کرتے تھے اور ان میں سے کوئی ہمارے حکم سے سرتابی کرتا تو ہم اسے بھڑکتی آگ کے عذاب کا ذائقہ چکھاتے جو سلیمان چاہتے وہی جن ان کے لیے بناتے۔‘‘] رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک جن کو پکڑنے کا ارادہ فرمایا، بلکہ اسے پکڑنے پر قادر ہوگئے تو آپ نے فرمایا: ’’مجھے اپنے بھائی سلیمان عليہ السلام کی دعاء یاد آگئی تو آپ نے اسے ردودفع کردیا۔ ‘‘[1] ابوہریرہ رضی اللہ عنہ ایک جن کو دو [1] بخاری ؍ کتاب التفسیر ، سورۃ:ص