کتاب: قرآن وحدیث کی روشنی میں احکام و مسائل - صفحہ 130
3۔نمبر:۱ میں درج شدہ آیات و سور کو کثرت سے پڑھتا رہے، ان شاء اللہ فائدہ ہوگا۔ 4۔ تعویذ خواہ قرآن و حدیث کے کلمات کا ہی کیوں نہ ہو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت نہیں ۔ 5۔یہ ان عاملوں سے پوچھیں مجھے اس کا علم نہیں ۔ کتاب ’’ جادوگروں کا قلع قمع کرنے والی تلوار ‘‘ رحمکم ا للّٰه العزیز الغفار کا مطالعہ فرمائیں ۔ ۲۴ ؍ ۶ ؍ ۱۴۲۱ھ س: کیا جن قابو ہوجاتے ہیں ؟ اگر ہوجاتے ہیں تو کیا ہم کرسکتے ہیں یا نہیں ؟ ہر دو صورت دلیل لکھ دیں ۔ بعض اوقات لوگ آتے ہیں کہ ہمارے بچے کو جن چمٹ گئے ہیں تو اس کا علاج کس طرح کریں ، کیونکہ جن کے پاس جن ہیں وہ اس کے ذریعے کچھ کرتے ہیں اور جن نکالتے ہیں ۔ لہٰذا ہمیں ایسے مریضوں کا علاج کس طرح کرنا چاہیے ہم اس جن کو کس طرح حاضر کریں اور اس سے پوچھیں یا علاج نہ کریں اور اس کو جنوں والے کے پاس بھیج دیں ۔ اس کے بارے میں مکمل تفصیل تحریر فرمادیں ؟ (قاسم بن سرور ، فیصل آباد) ج: جن اللہ تعالیٰ کی مخلوق ہے، اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں : ﴿ وَالْجَآنَّ خَلَقْنَاہُ مِنْ قَبْلُ مِنْ نَّارِ السَّمُوْمِ ﴾ [الحجر:۲۷][ ’’ اور جنوں کو اس سے پہلے ہم آگ کی لپٹ سے پیدا کرچکے تھے۔‘‘]﴿ وَخَلَقَ الْجَآنَّ مِنْ مَّارِجٍ مِّنْ نَّارٍ ﴾ [الرحمٰن:۱۵][’’ اورجنوں کو آگ کے شعلہ سے پیدا کیا۔ ‘‘ ] ابلیس لعین نے کہا تھا: ﴿ أَنَا خَیْرٌ مِّنْہُ خَلَقْتَنِیْ مِنْ نَّارٍ وَّخَلَقْتَہٗ مِنْ طِیْنٍ ﴾[ ’’میں آدم سے بہتر ہوں ، کیونکہ تو نے مجھے آگ سے پیدا کیا ہے اور اسے مٹی سے۔ ‘‘] [الاعراف:۱۲]ان میں سے بعض نیک اور مسلم اور بعض بد اور ظالم: ﴿ وَأَنَّا مِنَّا الصَّالِحُوْنَ وَمِنَّا دُوْنَ ذٰلِکَ ط﴾[الجن:۱۱][ ’’ ہم میں سے کچھ نیک لوگ ہیں اور کچھ اس سے کم درجہ کے ہیں ۔‘‘ ]﴿وَأَنَّا مِنَّا الْمُسْلِمُوْنَ وَمِنَّا الْقٰسِطُوْنَ ط﴾الخ [الجن:۱۴] [’’ہم میں سے کچھ مسلمان اور کچھ بے انصاف ہیں ۔‘‘ ]﴿وَإِذْ صَرَفْنَآ إِلَیْکَ نَفَرًا مِّنَ الْجِنِّ یَسْتَمِعُوْنَ الْقُرْآنَ فَلَمَّا حَضَرُوْہُ قَالُوْآ اََنْصِتُوْا فَلَمَّا قُضِیَ وَلَّوْا إِلٰی قَوْمِھِمْ مُّنْذِرِیْنَ o قَالُوْا یٰقَوْمَنَآ إِنَّا سَمِعْنَا کِتَابًا أُنْزِلَ مِنْ م بَعْدِ مُوْسٰی مُصَدِّقًا لِّمَا بَیْنَ یَدَیْہِ یَھْدِیْٓ إِلَی الْحَقِّ وَإِلٰی طَرِیْقٍ مُّسْتَقِیْمٍ o یٰقَوْمَنَآ اَجِیْبُوْا دَاعِیَ ا للّٰه وَآمِنُوْا بِہٖ یَغْفِرْلَکُمْ مِّنْ ذُنُوْبِکُمْ وَیُجِرْکُمْ مِّنْ عَذَابٍ اَلِیْمٍ o وَمَنْ لاَّ یُجِبْ دَاعِیَ ا للّٰه ط الخ﴾[الاحقاف:۲۹ تا ۳۲][’’ اور جب ہم جنوں کے ایک گروہ کو آپ کی طرف لائے، جو قرآن سن رہے تھے، جب وہ اس مقام پر پہنچے تو کہنے لگے۔ خاموش ہوجاؤ ، پھر جب قرآن پڑھا جاچکا تو وہ ڈرانے والے بن کر اپنی قوم کے پاس لوٹے۔ کہنے لگے: اے ہماری قوم! ہم نے