کتاب: قرآن وحدیث کی روشنی میں احکام و مسائل - صفحہ 129
اس کے بعد مجھ سے فرمایا: ’’اے عائشہ! کیا تمہیں معلوم ہے کہ اللہ تعالیٰ نے آج مجھے ایسی چیز بتائی ہے جس میں میری شفاء ہے ، یعنی میرے پاس دو آدمی آئے ، ان میں سے ایک نے دوسرے سے کہا اس شخص کو کیا مرض ہے؟ دوسرے نے جواب دیا اس پر جادو کیا گیا ہے۔ اس نے کہا اس پر کس نے جادو کیا ہے؟ دوسرے نے کہا: لبید بن اعصم یہودی نے۔ اس نے کہا: کس چیز میں کیا ہے؟ دوسرے نے جواب دیا کہ: کنگھی میں ۔ آپ کے موئے مبارک اور نر کھجور کے خوشہ کے پوست میں ۔ اس نے کہا یہ کہاں رکھا ہے؟ دوسرے نے جواب دیا۔ زروان نامی کنویں میں ہے۔‘‘ اس کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کنویں کے پاس تشریف لے گئے اور واپس آکر آپ نے عائشہ رضی اللہ عنہا سے فرمایا: ’’وہاں کی کھجوریں شیاطین کے سر کی مانند ہیں ۔‘‘ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ میں نے کہا آپ نے اس کو نکلوایا فرمایا نہیں ۔ اللہ نے مجھے شفا دے دی ہے اور مجھے اندیشہ ہے کہ اس سے لوگوں میں فساد پھیلے گا۔ اس کے بعد وہ کنواں بند کردیاگیا۔ ‘‘[1] رہی نظر تو اس کے متعلق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کافرمان ہے: ’’ اَلْعَیْنُ حَقٌّ ‘‘ نظر حق ہے۔ [2] ۲۴ ؍ ۶ ؍ ۱۴۲۱ھ س: 1۔ آسیب کیا ہے؟ اور آسیب زدہ کا علاج قرآن کی کن آیات اور کن احادیث مبارکہ سے کیا جاتا ہے؟ اور اس کے پڑھنے کا طریق کار کیا ہونا چاہیے؟ 2۔کیا جنات آدمی کو لگ جاتے ہیں ؟ نیز ان کے لگنے کا سبب کیا ہے؟ 3۔جنات کے آدمی کو لگ جانے کی صورت میں کون سی سورۃ اور آیات تلاوت کی جاتی ہیں جن سے وہ حاضر ہوجاتا ہے؟ اوران کو بھگانے کے لیے کیا کچھ پڑھنا چاہیے؟ 4۔ ’’ شرعی ‘‘ تعویذ کی حقیقت کیا ہے؟ کیا شرعی تعویذ لیا اور دیا جاسکتا ہے؟ 5۔بعض عامل جنات کو قید کرلیتے ہیں ۔ اس کی حقیقت کیا ہے؟ اگر واقعی ایسا ہے تو اس کا کیا طریقہ ہے؟ (سیف اللہ خالد، ضلع اوکاڑہ) ج: 1۔ آسیب جنات کی تاثیر یا ان سے تأثر کو کہتے ہیں ، علاج آیت الکرسی اور معوذ تین کی تلاوت یا پھر سورۂ بقرہ کی تلاوت۔ 2۔ہاں لگ جاتے ہیں ۔ اسباب مختلف ہوتے ہیں ۔ [1] کتاب بدء الخلق ، صحیح بخاری ؍ باب صفۃ إبلیس وجنودہ [2] صحیح بخاری ؍ کتاب الطب ؍ بابٌ اَلْعَیْنُ حَقٌّ