کتاب: قرآن وحدیث کی روشنی میں احکام و مسائل - صفحہ 128
نظر کا دم اور نظر لگانے والے کے وضوء سے گرے ہوئے پانی کے ساتھ غسل شرعی علاج ہیں ۔ نظر کادم یہ ہے: ﴿ اَعُوْذُ بِکَلِمَاتِ ا للّٰه التَّامَّۃِ مِنْ شَرِّ کُلِّ شَیْطَانٍ وَہَامَّۃٍ وَمِنْ کُلِّ عَیْنٍ لَامَّۃٍ ط﴾ ’’ میں اللہ کے کلمات تامہ کے ذریعے ہر شیطان، زہریلے جانور اور ہر ضرر رساں نظر کے شر سے پناہ مانگتا ہوں ۔‘‘ [1] دوسرے کو دم کرنا ہو تو اَعُوْذُکی جگہ اُعِیْذُکَ پڑھے۔ ] ۲۴ ؍ ۶ ؍ ۱۴۲۱ھ س: جادو اور نظر کی حقیقت کیا ہے؟ نیز کیا جادو ہوجاتا ہے اور نظر لگ جاتی ہے؟ (سیف اللہ خالد ، ضلع اوکاڑہ) ج: جادو اور نظر کی تعریف و حقیقت قرآن و سنت سے مجھے معلوم نہیں ۔ البتہ جادو ہوجاتا ہے اور نظر لگ جاتی ہے۔ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: ﴿ فَیَتَعَلَّمُوْنَ مِنْھُمَا مَا یُفَرِّقُوْنَ بِہٖ بَیْنَ الْمَرْئِ وَزَوْجِہٖ وَمَا ھُمْ بِضَآرِّیْنَ بِہٖ مِنْ اَحَدٍ اِلاَّ بِإِذْنِ ا للّٰه وَیَتَعَلَّمُوْنَ مَا یَضُرُّھُمْ وَلَا یَنْفَعُھُمْ ط﴾[البقرۃ:۱۰۲] [’’ پھر لوگ ان سے وہ سیکھتے ، جس سے خاوند و بیوی میں جدائی ڈال دیں اور دراصل وہ بغیر اللہ تعالیٰ کی مرضی کے کسی کو کوئی نقصان نہیں پہنچاسکتے۔ یہ لوگ وہ سیکھتے ہیں جو انہیں نقصان پہنچائے اور نفع نہ پہنچاسکے۔‘‘ ] نیز اللہ تعالیٰ کافرمان ہے: ﴿ سَحَرُوْٓا اَعْیُنَ النَّاسِ وَاسْتَرْھَبُوھُمْ ط﴾ [الاعراف:۱۶۶] [ ’’ انہوں نے لوگوں کی نظر پر جادو کیا اور ان پر ہیبت غالب کردی۔‘‘] پھر اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: ﴿ یُخَیَّلُ اِلَیْہِ مِنْ سِحْرِھِمْ اَنَّھَا تَسْعٰی ﴾ [طٰہٰ:۶۶] [ ’’ موسیٰ کو یہ خیال گزرنے لگا کہ ان کی رسیاں اور لکڑیاں ان کے جادو کے زور سے دوڑ بھاگ رہی ہیں ۔‘‘ ] لبید بن اعصم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر جادوکیا جس کا کچھ نہ کچھ اثر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر ہوگیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ تعالیٰ سے دعاء فرمائی۔ اللہ تعالیٰ نے جادو کا اثر زائل فرمادیا۔ اس واقعہ کی تفصیل صحیح بخاری میں دیکھ سکتے ہیں ۔ [عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے انہوں نے فرمایا کہ : ’’ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر جادو کیا گیا تو آپ کی یہ حالت تھی کہ آپ خیال کرتے کہ میں یہ کام کرسکتا ہوں ، لیکن کرنہیں سکتے تھے۔ پھر آپ نے ایک دن خوب دعا فرمائی۔ [1] صحیح بخاری ؍ کتاب احادیث الأنبیاء ؍ حدیث: ۳۳۷۱