کتاب: قرآن وحدیث کی روشنی میں احکام و مسائل - صفحہ 126
مِنْھُمْ تُقَاۃً ط﴾ [آل عمران:۲۸][’’ مومنوں کو چاہیے کہ ایمان والوں کو چھوڑ کر کافروں کو اپنا دوست نہ بنائیں اور جو ایسا کرے گا وہ اللہ تعالیٰ کی کسی حمایت میں نہیں ، مگر یہ کہ ان کے شر سے کسی طرح بچاؤ مقصود ہو۔‘‘ ] رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے: ((لاَ اَشْھَدُ عَلَی جَوْرٍ)) [1] [’’ میں ظلم پر گواہ نہیں بنوں گا۔‘‘ ]اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:﴿ یٰٓـاَ یُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا کُوْنُوْا قَوّٰمِیْنَ بِالْقِسْطِ شُھَدَآئَ لِلّٰہِ وَلَوْ عَلٰٓی اَنْفُسِکُمْ اَوِ الْوَالِدَیْنِ وَالْاَقْرَبِیْنَ ج﴾الآیۃ [النساء:۱۳۵][’’ اے ایمان والو! عدل و انصاف پر مضبوطی سے جم جانے والے اور خوشنودی مولا کے لیے سچی گواہی دینے والے بن جاؤ، گو وہ خود تمہارے اپنے خلاف ہویا اپنے ماں باپ کے یا رشتہ دار عزیزوں کے۔‘‘ ] رہی بات دل کے مومن ہونے کی تو جو دل کا مؤمن ہو وہ جورو ظلم پر گواہ نہیں بنتا، چہ جائیکہ وہ کفر و ارتداد پر گواہ بنے؟ واللہ اعلم۔ ۳۰ ؍ ۱ ؍ ۱۴۲۴ھ س: کیا جادو کا علاج جادو سے کیا جاسکتا ہے؟ (ماسٹر سیف اللہ خالد) ج: جی نہیں ۔ [رسو ل اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’ سات مہلک کاموں سے بچ کر رہو۔ ‘‘ صحابہ نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! وہ سات کام کون کون سے ہیں ؟ آپؐ نے فرمایا: 1۔ اللہ تعالیٰ کے ساتھ شرک کرنا۔ 2۔ جادو کرنا ۔ 3۔کسی کو ناحق قتل کرڈالنا۔ 4۔سود خوری ۔ 5۔یتیم کا مال کھانا۔ 6۔ کفار سے مقابلہ کے دن پیٹھ پھیر کر بھاگ جانا۔ 7۔پاکدامن اہل ایمان عورتوں پر تہمت لگانا۔ [صحیح بخاری ؍ کتاب الوصایا ؍ باب قول اللہ تعالی:﴿ إِنَّ الَّذِیْنَ یَأْکُلُوْنَ اَمْوَالَ الْیَتَامٰی ظُلْمًا اِنَّمَا یَأْکُلُوْنَ فِیْ بُطُوْنِھِمْ نَارًا وَسَیَصْلَوْنَ سَعِیْرًا ط﴾ ] [2] ۷ ؍ ۲ ؍ ۱۴۲۳ھ س: ! جادو سے جادو کا علاج کرنا درست ہے کہ نہیں ؟ اس سے حاصل ہونے والی آمدنی حلال ہے یا حرام؟ جو آدمی جادو کے ذریعہ سے جادو کا علاج کرتا ہے تو دوسرا آدمی جو اس کو جانتا ہے کہ یہ جادو وغیرہ کرتا ہے تو کیا وہ آدمی اس سے کوئی چیز کھاسکتا ہے کہ نہیں ؟ یا اس کے ساتھ کھانا جو اس کی جادو کی کمائی نہیں رزق [1] بخاری ؍ کتاب الشہادات ؍ باب لا یشہد علی شہادۃ جور اذا اشہد [2] وصحیح مسلم ؍ کتاب الایمان ؍ باب الکبائر واکبرھا