کتاب: قرآن وحدیث کی روشنی میں احکام و مسائل - صفحہ 124
تو کہہ دے کہ میں نے اب توبہ کی، ان کی توبہ بھی قبول نہیں جو کفر پر ہی مرجائیں ۔‘‘ پھر فرعون کے متعلق ہے: ﴿ حَتّٰیٓ اِذَا أَدْرَکَہُ الْغَرَقُ قَالَ اٰمَنْتُ أَنَّہٗ لَا اِلٰہَ اِلاَّ ا للّٰه الَّذِیٓ اٰمَنَتْ بِہٖ بَنُوٓا اِسْرَآئِیْلَ وَاَنَا مِنَ الْمُسْلِمِیْنَ آلْاٰنَ وَقَدْ عَصَیْتَ قَبْلُ وَکُنْتَ مِنَ الْمُفْسِدِیْنَ o﴾ [یونس:۱۰؍۹۱] ’’ یہاں تک کہ جب ڈوبنے لگا تو کہنے لگا کہ میں ایمان لاتا ہوں اس (اللہ پر) کہ جس پر بنی اسرائیل ایمان لائے ہیں ، اس کے سوا کوئی معبود نہیں اور میں مسلمانوں میں سے ہوں ( جواب دیا گیا کہ) اب ایمان لاتا ہے اور پہلے سرکشی کرتا رہا اور مفسدوں میں داخل رہا۔‘‘ ۱۵ ؍ ۱۱ ؍ ۱۴۲۵ھ س: 1۔ جو آدمی نمازِ جمعہ پڑھتا ہے ، باقی کوئی نماز نہیں پڑھتا کیا ایسا آدمی کافر ہے؟ 2۔کیا ایسا کلمہ توحید کا اقرار کرنے والا ہمیشہ دوزخ میں رہے گا یا کلمہ توحید کی وجہ سے دوزخ سے نکال لیا جائے گا؟ 3۔کیا ایسے آدمی کو سلام کہنا چاہیے؟ (فیصل اسلم) ج: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے: (( مَنْ تَرَکَ صَلاَۃَ الْعَصْرِ فَقَدْ حَبِطَ عَملُہُ)) [1] [ ’’ جس نے نمازِ عصر چھوڑی تو اس کاعمل حبط ہوگیا۔‘‘]اس حدیث سے ثابت ہوا اس کا جمعہ حبط ہے۔ آپ کی شقوق ثلاثہ سے دو کا جواب تو اس حدیث میں بیان ہوگیا ہے۔ رہی تیسری شق تو اس کا جواب یہ ہے کہ اسے سلام کہنا چاہیے کیونکہ ظاہر میں وہ اپنے آپ کو مسلم کہتا اور کہلواتا ہے۔ پھر عبداللہ بن ابی ابن سلول اور اس کے ساتھیوں کا حکم معلوم ہی ہے وہ کلمہ بلکہ نماز بھی پڑھتے تھے تو ثابت ہوا کہ انسان کے اندر کفر موجود ہو تو کلمہ توحید اسے نجات نہیں دلائے گا۔ ۱۴ ؍ ۱ ؍ ۱۴۲۴ھ س: جہاں میں کام کرتا ہوں وہاں پر سال یعنی عیسوی سال کے ابتدا میں ہماری فیکٹری کے مالک ایک فروٹ کیک لاتے ہیں اور اس میں یہاں کی کرنسی کا ایک سکہ ہوتا ہے اور اسے اتنے حصوں میں کاٹتے ہیں جتنے ملازم کام کرتے ہیں اور اس پر سب سے پہلے عیسیٰ علیہ السلام کا نام ، پھر مریم علیہا السلام کا نام یا سلام اللہ علیہ ، پھر مالک اپنے دو بھائیوں کے نام ، پھر بالترتیب سینئر سے جونیئر ملازمین کے نام ایک صفحہ پر لکھ لیتے ہیں ۔ پھر اس فروٹ کیک جو کہ اچھا سال گزرنے کے لیے کاٹتے ہیں اس کو گھماتے ہیں ۔ اصل مقصد کیک کاٹنے کا یہ ہوتا ہے کہ جو سال شروع ہوا ہے وہ اچھا گزرے، پھر ٹوٹل جو نام ہوتے ہیں اتنے ہی کیک کے حصے کرلیتے [1] بخاری ؍ کتاب الصلاۃ ؍ باب من ترک العصر