کتاب: قرآن وحدیث کی روشنی میں احکام و مسائل - صفحہ 122
اللّٰہ وبرکاتہ ‘‘کہتا ہے تو، ابی داؤد میں ہے کہ: (( عن ابی ھریرۃ رضي الله عنه قال قَال رسول ا للّٰه صلی ا للّٰه علیہ وسلم مَامِنْ احَد یسلم علیّ الاَّ رد ا للّٰه علی روحی حتی ارد علیہ السلام ویحسن ان یقول المسلم علی رسول ا للّٰه صلی ا للّٰه علیہ وسلم : السلام علیک یا نبی ا للّٰه السلام علیک یا خیرۃ ا للّٰه من خلقہ السلام علیک یا سید المرسلین وامام المتقین۔ اشہد انک بلغت الرسالۃ وادیت الا مانۃ ونصحت الامۃ وجاہدت فی ا للّٰه حق جہاد۔)) یہ حدیث ابی داؤد میں ہے اس مسئلہ کی وضاحت ضروری چاہیے کیونکہ اگر انبیاء اللہ قبر میں نماز پڑھتے ہیں یا پھر آنحضرت کی روح لوٹائی جاتی ہے اور آپ سلام کا جواب دیتے ہیں اور یہ کتنی مرتبہ روح کا لوٹنا ہوتا ہوگا یا پھر ہمیشہ ہی روح موجود رہتی ہے تو پھر لوٹائی کا کیا معنی ہوا؟(محمد بشیر الطیب) ج: ’’ تمام انبیاء علیہم السلام اپنی قبروں میں نماز پڑھتے ہیں ۔‘‘ روایت کمزور ہے، البتہ موسیٰ علیہ السلام کا قبر میں نماز پڑھنا صحیح مسلم کی حدیث سے ثابت ہے۔ [1]باقی انبیاء کرام علیہم السلام کی قبر والی اور برزخ والی زندگی ثابت ہے، جس میں کوئی شک و شبہ نہیں ، البتہ ان کی دنیا والی زندگی ان کی موت یا شہادت کے وقت سے ختم ہوچکی ہے۔ ابو داؤد والی حدیث: (( قَالَ رَسُولُ ا للّٰه صلی ا للّٰه علیہ وسلم : مَا مِنْ أَحَدٍ یُسَلِّمُ عَلَیَّ إِلاَّ رَدَّ ا للّٰه عَلَیَّ رُوْحِیْ حَتَّی أَرُدَّ عَلَیہِ السَّلاَمَ۔)) [2] [’’ جو کوئی مجھے سلام کہے گا تو اللہ تعالیٰ میر ی روح کومیری طرف لوٹادے گا، حتی کہ میں اس کے سلام کا جواب دوں گا۔‘‘] ان الفاظ کے ساتھ حسن اور ثابت ہے ۔ ابوداؤد میں موجود ہے۔ البتہ جو الفاظ آپ نے اس حدیث سے پہلے اور بعد نقل فرمائے ہیں وہ ابوداؤد میں نہیں ہیں ۔ باقی روح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میں ایک دفعہ قبر میں لوٹادینے کے بعد نکالنے کا کوئی ثبوت نہیں ۔ کیونکہ درود و سلام ہر وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر پڑھا جارہا ہے۔ باقی یہ زندگی دنیا والی نہیں نہ ہی اس کے احکام دنیا والے ہیں ۔ س: بغیر حساب و کتاب کے جنت میں آدمی کن اعما ل کی وجہ سے جائے گا۔ دلائل سے ثابت کریں ؟ ج: صحیح بخاری میں ہے: (( ھُمُ الَّذِیْنَ لاَ یَسْتَرقُوْنَ ، وَلاَ یَکْتُوُونَ وَلاَ یَتَطَیَّرُوْنَ ، وَعَلٰی رَبِّھِمْ یَتَوَکَّلُوْنَ۔)) [’’ امت محمد صلی اللہ علیہ وسلم سے ستر ۷۰ ہزار آدمی بغیر حساب و عذاب کے جنت میں جائیں گے۔ یہ وہ لوگ ہیں جو نہ دم کرواتے ہیں ، نہ علاج کی غرض سے اپنے جسم کو داغتے ہیں اور نہ فال نکالتے ہیں ، بلکہ وہ [1] مسلم ؍ کتاب الایمان ؍ باب الاسراء [2] ابو داؤد ؍ کتاب المناسک ؍ باب زیارۃ القبور