کتاب: قرآن وحدیث کی روشنی میں احکام و مسائل - صفحہ 117
9۔معلوم ہے مسیح علیہ السلام کو اللہ تعالیٰ کا بغیر باپ پیدا فرمانا ، اللہ تعالیٰ کی نعمتوں سے ہے۔ تو اللہ تعالیٰ قیامت کے دن مسیح عیسیٰ علیہ السلام کو اپنی نعمتیں یاد کرائے گا، ان نعمتوں میں مسیح علیہ السلام کے بغیر باپ پیدا کیے جانے کا کوئی ذکر نہیں ہے، اس کی کیا وجہ ہے؟ سائل اس کی جو وجہ بیان کرے گا ، وہی یا اس سے ملتی جلتی وجہ مسیح علیہ السلام کے رفع إلی السماء اور نزول من السماء کی آپ بیان کرسکتے ہیں ۔ پھر رفع و نزول کے اس خاص مقام پر ذکر نہ ہونے سے ان کی نفی نہیں نکلتی ،جیسا کہ اس خاص مقام پر ولادتِ مسیح علیہ السلام بغیر باپ کا بھی ذکر نہیں تو اس سے اس کی نفی تو نہیں نکلتی۔ پھر اس آیت کریمہ ﴿ اُذْکُرْ نِعْمَتِیْ عَلَیْکَ وَعَلَی وَالِدَتِکَ ط﴾[المائدۃ:۱۱۰][’’ اے عیسیٰ ابن مریم! میرا انعام یاد کرو ، جو تم پر اور تمہاری والدہ پر ہوا ہے۔‘‘ ]میں مریم رضی اللہ عنہا پر نعمتوں کا ذکر بھی ہے، مگر آگے جو نعمتیں بیان ہوئیں ان میں زکریا علیہ السلام کے ان کے کفیل بننے اور رزق ملنے والی نعمتوں نیز اصطفاء علی العالمین والی نعمت کا کوئی ذکر نہیں اس کی کیا وجہ؟ کیا یہ نعمتیں نہیں تھیں ۔ نیز اسی آیت کریمہ میں ہے: ﴿ تُکَلِّمُ النَّاسَ فِی الْمَھْدِ وَکَھْلًا ط﴾مہد میں کلام کرنے کا تو قرآنِ مجید میں ذکر ہے ، جیسا کہ آیت: ﴿ قَالَ إِنِّیْ عَبْدُ ا للّٰه ط﴾الخ ،میں گزر چکا ہے اور سن کہولت میں مسیح صلی اللہ علیہ وسلم کا انسانوں کے ساتھ کلام کرنا آج تک ثابت نہیں ہوسکا تو لا محالہ نزول کے بعد سنِ کہولت میں وہ انسانوں کے ساتھ کلام کریں گے، کیونکہ اللہ تعالیٰ کا کلام و خبر دینا: ﴿ تُکَلِّمُ النَّاسَ فِی الْمَھْدِ وَکَھْلًا ط﴾ صدق و حق ہے۔ قرآنِ مجید میں ہے: ﴿ وَمَنْ أَصْدَقُ مِنَ ا للّٰه حَدِیْثًا ط﴾[النساء:۸۷] اور ایک مقام پر ہے: ﴿ وَمَنْ أَصْدَقُ مِنَ ا للّٰه قِیْلًا ط﴾[نساء:۱۲۲] ورنہ لازم آئے گا کہ اللہ تعالیٰ کا کلام و خبر دینا واقع کے مطابق نہ ہو اور یہ لازم محال و باطل ہے۔ 10۔ اس سوال کے انداز کو لیا جائے تو کہا جاسکتا ہے ، اللہ تعالیٰ مسیح علیہ السلام کو ان پر اور ان کی والدہ پر اپنی نعمتیں قیامت کے دن یاد کرائے گا ان نعمتوں میں مسیح علیہ السلام کے بغیر باپ پیدا کیے جانے، ان کی والدہ کے اصطفاء علی العالمین، انہیں رزق ملنے اور زکریا علیہ السلام کے ان کے کفیل بنائے جانے کا کوئی ذکر نہیں کیا۔ (نعوذ باللہ) اللہ تعالیٰ اتنی بڑی نعمتوں کا ذکر کرنا بھول گئے ہیں یا یہ نعمتیں واقع ہی میں رونما نہیں ہوئیں ؟ تو سائل جو جواب دے وہی یا اس سے ملتا جلتا جواب رفع و نزول کا آپ دے لیں ۔ تو بھول والی بات کوئی نہیں ۔ قرآنِ مجید میں ہے: ﴿ لَا یَضِلُّ رَبِّیْ وَلَا یَنْسٰی ط﴾[طہ:۵۲] اور ایک