کتاب: قرآن وحدیث کی روشنی میں احکام و مسائل - صفحہ 115
رَسُوْلٌ مُّصَدِّقٌ لِّمَا مَعَکُمْ لَتُؤْمِنُنَّ بِہٖ وَلَتَنْصُرُنَّہٗ ط قَالَ ئَاَقْرَرْتُمْ وَاَخَذْتُمْ عَلٰی ذٰلِکُمْ إِصْرِیْ ط قَالُوْٓا اَقْرَرْنَا ط قَالَ فَاشْھَدُوْا وَاَنَا مَعَکُمْ مِّنَ الشّٰھِدِیْنَ o فَمَنْ تَوَلّٰی بَعْدَ ذٰلِکَ فَأُولٰٓئِکَ ھُمُ الْفٰسِقُوْنَ o﴾[آل عمران:۸۱،۸۲][’’ جب اللہ تعالیٰ نے نبیوں سے عہد لیا کہ جو کچھ میں تمہیں کتاب و حکمت دوں ، پھر تمہارے پاس وہ رسول آئے جو تمہارے پاس کی چیز کو سچ بتائے تو تمہارے لیے اس پر ایمان لانا اور اس کی مدد کرنا ضروری ہے۔ فرمایا کہ تم اس کے اقراری ہو اور اس پر میرا ذمہ لے رہے ہو، سب نے کہا ہمیں اقرار ہے۔ فرمایا تو اب گواہ رہو اور خود میں بھی تمہارے ساتھ گوا ہوں میں ہوں پس اس کے بعد بھی جو پلٹ جائے وہ یقینا پورے نافرمان ہیں ۔‘‘ ] 2۔پہلے سوال کے جواب میں گزر چکا ہے کہ مسیح عیسیٰ علیہ السلام کا نزول نبی، رسول اور محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے امتی کی حیثیت سے ہوگا، لہٰذا یہ سوال ’’ کیا امتی کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ سارے اہل کتاب اور غیر مسلموں سے کہے کہ مجھ پر ایمان لاؤ؟ ‘‘ بنتا ہی نہیں ، کیونکہ مسیح عیسیٰ علیہ السلام امتی ہونے کے ساتھ ساتھ رسول و نبی بھی ہیں ۔ بطور مثال ہارون علیہ السلام، موسیٰ علیہ السلام کے امتی بھی ہیں اور رسول و پیغمبر بھی۔ لوط علیہ السلام ، ابراہیم علیہ السلام کے امتی بھی ہیں اور رسول و پیغمبر بھی۔ تو مسیح علیہ السلام، محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے امتی بھی ہیں اور رسول و پیغمبر بھی۔ تو ان کا لوگوں کو اپنے آپ پر ایمان لانے کی دعوت دینا ،رسول و پیغمبر کی حیثیت سے ہے۔ 3۔اس سوال کا جواب نمبر: (۱) اور نمبر: (۲) میں بیان ہوچکا ہے۔ 4۔ اس کا جواب نمبر: (۱) میں گزر چکا ہے۔ 5۔مسیح عیسیٰ علیہ السلام کے نزول کے وقت ان کو امتی ماننے سے ان کے رسول و نبی ہونے کا انکار لازم نہیں آتا، جیسا کہ ان کو رسول و نبی ماننے سے ان کے امتی ہونے کا انکار لازم نہیں آتا۔ دیکھئے لوط علیہ السلام، ابراہیم علیہ السلام کے امتی ہیں ۔ قرآنِ مجید میں ہے: ﴿ فَآمَنْ لَہٗ لُوْطٌ ط﴾ [العنکبوت:۲۶][ ’’ پس ابراہیم علیہ السلام پر لوط علیہ السلام ایمان لائے۔‘‘ ] تو اب اس سے لوط علیہ السلام کے رسول و نبی ہونے کا انکار لازم نہیں آتا، تو مسیح علیہ السلام بوقت نزول امتی ہونے کے ساتھ ساتھ رسول و نبی بھی ہیں ، بلکہ فی الحال بھی وہ رسول و نبی اور امتی ہیں ۔ سائل نے پہلے سوال میں ’’ دوبارہ نزول ‘‘ لکھا ہے، اب کے پانچویں سوال میں بھی ’’ دوبارہ نزول ‘‘ لکھا ہے، حالانکہ یہ بالکل غلط ہے ، کیونکہ مسیح علیہ السلام کا آسمان سے نزول صرف ایک بارہ ہے دوبارہ نہیں ۔