کتاب: قرآن وحدیث کی روشنی میں احکام و مسائل - صفحہ 114
7۔اگر تمام انبیاء علیہم السلام کے آخر میں آنے والی ہستی عیسیٰ علیہ السلام کو مانا جائے تو محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے اس فرمان کا: (( فَإِنِّیْ آخِرُ الْأَنْبِیَائِ لَا نَبِیَّ بَعْدِیْ)) ’’ میں تمام نبیوں کے آخر پر ہوں اور میرے بعد کسی قسم کا کوئی نبی نہیں ہوگا۔‘‘ کا کیا معنی و مفہوم ہوگا؟ 8۔عیسیٰ علیہ السلام کا آسمانوں پر اٹھایا جانا اور وہاں صدیوں رہنا اور پھر زمین پر نزول فرمانا اللہ کی نعمتوں میں سے ہے یا نہیں ؟ 9۔اگر نعمتوں میں سے ہے تو اللہ تعالیٰ قیامت کے دن عیسیٰ علیہ السلام کو اپنی نعمتیں یاد کرائے گا۔ ان نعمتوں میں عیسیٰ علیہ السلام کا آسمانوں پر اٹھایا جانا، پھر زمین پر نزول فرمانے کا کوئی ذکر نہیں ہے، اس کی کیا وجہ ہے؟ 10۔ کیا (نعوذ باللّٰہ) اللہ تعالیٰ اتنی بڑی نعمت کا ذکر کرنا بھول گئے ہیں یا آسمانوں پر اٹھایا جانے کا واقعہ ہی رونما نہیں ہوا ہے؟ بلکہ حقیقت یہ ہے کہ: محمد صلی اللہ علیہ وسلم خاتم النبیین ہیں ، جس کا واضح مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعے تمام انبیاء علیہم السلام کے سلسلے کو ختم اور بند کردیا ہے۔ اب عیسیٰ علیہ السلام کا نزول بطور امتی یا نبی نہیں ہوگا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے پہلے تمام انبیاء علیہم السلام وفات پاچکے ہیں ، جن میں عیسیٰ علیہ السلام بھی شامل ہیں ۔ نزول مسیح علیہ السلام کا عقیدہ ہر لحاظ سے عیسائیوں کا عقیدہ ہے جو منظم سازش سے مسلمانوں میں پھیلایا گیا ہے۔ ج: 1۔ مسیح عیسیٰ علیہ السلام کا آسمان سے نزول نبی، رسول اور محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے امتی کی حیثیت سے ہوگا۔ قرآنِ مجید میں ہے: ﴿ إِنَّمَا الْمَسِیْحُ عِیْسَی ابْنُ مَرْیَمَ رَسُوْلُ اللّٰہِ﴾ [النسآء:۱۷۱][ ’’ مسیح عیسیٰ ابن مریم (علیہ السلام) تو صرف اللہ تعالیٰ کے رسول ہیں اور اس کے حکم ہیں ، جسے مریم (علیہا السلام) کی طرف ڈال دیا اور اس کے پاس کی روح ہیں ، اس لیے تم اللہ کو اور اس کے سب رسولوں کو مانو اور نہ کہو کہ اللہ تین ہیں ، اس سے باز آجاؤ کہ تمہارے لیے بہتری ہے۔‘‘]نیز قرآنِ مجید میں ہے: ﴿ مَا الْمَسِیْحُ ابْنُ مَرْیَمَ إِلاَّ رَسُوْلٌ﴾[المائدۃ:۷۵][’’مسیح ابن مریم سوائے پیغمبر ہونے کے اور کچھ بھی نہیں ان سے پہلے بھی بہت سے پیغمبر ہوچکے ہیں ، اس کی والدہ ایک راست باز عورت تھیں ، دونوں ماں بیٹے کھانا کھایا کرتے تھے۔‘‘ ] نیز قرآنِ مجید میں ہے: ﴿ قَالَ إِنِّیْ عَبْدُ ا للّٰه اٰتٰنِیَ الْکِتَابَ وَجَعَلَنِیْ نَبِیًّا ط﴾ [مریم: ۳۰] [’’ آپ نے کہا کہ میں اللہ تعالیٰ کا بندہ ہوں ، اس نے مجھے کتاب عطا فرمائی اور مجھے اپنا پیغمبر بنایا ہے۔ ‘‘ ]اور قرآنِ مجید میں ہے: ﴿ وَ إِذْ أَخَذَ ا للّٰه مِیْثَاقَ النَّبِیّٖنَ لَمَآ اٰتَیْتُکُمْ مِّنْ کِتٰبٍ وَّحِکْمَۃٍ ثُمَّ جَآءَکُمْ