کتاب: قرآن وحدیث کی روشنی میں احکام و مسائل - صفحہ 113
ولی کسی مخصوص وضع و ہیئت کے حامل کو یا کسی گدی نشین کو مجذوب یا نیم پاگل کو یاذ کرو عبادت کے مخصوص خود ساختہ اطوار اختیار کرنے والے کو نہیں کہا جاتا، بلکہ اللہ کاولی وہ ہے جو فرائض اسلام کا پابند نوافل کا شوقین اور زندگی کے ہر شعبے میں اطاعت الٰہی کا خوگر ہے۔ ایسے اولیاء اللہ کی صحبت اللہ کی رضاء کا اور ان سے دشمنی اللہ کی شدید ناراضگی اور غضب کا باعث ہے۔ نوافل کا اہتمام یقینا اللہ کے قرب کا باعث ہے، لیکن فرائض و سنن کی پابندی کے ساتھ۔ اگر پہلے فرائض و سنن کی پابندی نہیں ہے تو اس کی پابندی کے بغیر نوافل کی کوئی حیثیت نہیں ۔ فرائض و سنن کی ادائیگی کے بغیر اللہ کے قرب کی خواہش ایک خام خیالی اور باطل محض ہے۔ ] س: ہمیں ایک نئی جماعت کی طرف سے جس کا نام: ’’ الْمُسْلِمِیْن ‘‘ایک پمفلٹ ملا ہے ، جس کے اوپر نزول عیسیٰ علیہ السلام کے بارے میں چند سوال کیے گئے ہیں ۔ ہم یہ آپ کی طرف بھیج رہے ہیں ۔ آپ ہمیں ان کے جواب عنایت فرمائیے،تاکہ دلی سکون حاصل ہو۔ (محمد سرور ، چک چٹھہ حافظ آباد) نزولِ عیسیٰ علیہ السلام کے قائلین سے چند سوالات 1۔ عیسیٰ علیہ السلام کا دوبارہ نزول نبی و رسول کی حیثیت سے ہوگا یا امتی کی حیثیت سے؟ 2۔اگر عیسیٰ علیہ السلام ایک امتی کی حیثیت سے تشریف لائیں گے تو کیا کسی امتی کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ سارے اہل کتاب اور غیر مسلموں سے کہے کہ مجھ پر ایمان لاؤ؟ 3۔قرآنِ حکیم میں جہاں ساری انسانیت اور اہل کتاب کو دعوتِ اسلام دی گئی ہے کیاوہاں یہ بات ان سے کہی گئی ہے کہ تم ایک امتی (عیسیٰ علیہ السلام) پر بھی ایمان لانا؟ 4۔ کیا قرآن و حدیث میں یہ لکھا ہوا ہے کہ عیسیٰ علیہ السلام کا نزول بطور امتی ہوگا؟ 5۔عیسیٰ علیہ السلام کو دوبارہ نزول کے وقت ’’ نبی ‘‘ کی بجائے ’’ امتی ‘‘ ماننے سے ان کی نبوت کا انکار تو لازم نہیں آئے گا؟ (کیونکہ بزبان عیسیٰ علیہ السلام قرآنِ حکیم میں سورۂ مریم آیت نمبر: ۳۰ میں ہے وَجَعَلَنِیْ نَبِیًّا اور اس (اللہ) نے مجھے نبی بنایا ہے۔‘‘ 6۔اگر عیسیٰ علیہ السلام نبی اور رسول کی حیثیت سے آئیں گے تو اس وقت آخری نبی عیسیٰ صلی اللہ علیہ وسلم ہوں گے یا محمدصلی اللہ علیہ وسلم؟ کیا محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت کے بعد بھی کس نبی یا رسول کی ضرورت ہے؟