کتاب: قرآن وحدیث کی روشنی میں احکام و مسائل - صفحہ 111
تمام لوگوں سے زیادہ مجھ پر اپنی صحبت اور مال میں احسان کرنے والے ابوبکر ہیں ۔‘‘]تو قرآنِ مجید میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سوال، مطالبہ کرنے اور مانگنے کی نفی ہے۔ کما تقدم و ا للّٰه اعلم۔ آپ سے مؤدبانہ اور مخلصانہ گزارش ہے کہ آپ میری سابقہ معروضات کو تعصب کو بالائے طاق رکھتے ہوئے غور سے پڑھیں اور بہ انصاف سوچیں ان شاء اللہ الحنان بہت فائدہ ہوگا۔ س: جو جماعت کفریہ اور شرکیہ واقعات والی کتابیں شائع کرتی ہے، ان کا فعل کیساہے کیا یہ خود شرک کے مترادف تو نہیں ، جبکہ شرکیہ نظریات والے ان کتابوں سے تقویت حاصل کرتے ہیں ۔ مثلاً کراماتِ اہلحدیث ، ص:۹۰ ، ۹۱ اور بھی بہت سی کتابیں ہیں ۔ (عصمت اللہ ، حافظ آباد روڈ گوجرانوالہ) ج: کفریہ اور شرکیہ واقعات والی عبارت نقل فرمائیں تاکہ جواب علی وجہ البصیرۃ دیا جاسکے۔ کیونکہ بسااوقات کتاب کو پڑھنے والا سمجھ بیٹھتا ہے کہ یہ عبارت کفریہ یا شرکیہ ہے۔ مگر واقع میں ایسا نہیں ہوتا۔ رہی بات شرکیہ نظریات والوں کی تقویت حاصل کرنے والی تو وہ تو قرآنِ مجید کی کئی آیات اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی کئی احادیث ثابتہ سے بھی تقویت حاصل کرتے ہیں ۔ مثلاً: ﴿ یٰٓـأَیُّھَا النَّبِیُّ حَسْبُکَ ا للّٰه وَمَنِ اتَّبَعَکَ مِنَ الْمُؤْمِنِیْنَ o[الأنفال:۶۴][ ’’ اے نبی صلی اللہ علیہ وسلم ! آپ کے لیے اور ان مومنوں کے لیے جو آپ کے حکم پر چلتے ہیں ، اللہ ہی کافی ہے۔‘‘ ] وَمَا نَقَمُوٓا إِلاَّ أَنْ أَغْنَاھُمُ ا للّٰه وَرَسُولُہٗ مِنْ فَضْلِہٖ [التوبۃ:۷۴][ ’’ یہ صرف اسی بات کا انتقام لے رہے ہیں کہ انہیں اللہ نے اپنے فضل سے اور اس کے رسول نے دولت مند کردیا۔‘‘]فَسَیَرَی ا للّٰه عَمَلَکُمْ وَرَسُولُہٗ ط [التوبۃ:۱۰۵][ ’’ اللہ، اس کا رسول اور سب مومن تمہارے عمل کو دیکھ لیں گے۔‘‘ ]اَلنَّبِیُّ أَوْلٰی بالْمُؤْمِنِیْنَ مِنْ أَنْفُسِھِمْ ط[الأحزاب:۶][ ’’ پیغمبر مومنوں پر خود ان سے بھی زیادہ حق رکھنے والے ہیں ۔‘‘ ] وَفِیْکُمْ رَسُوْلُہٗ ط[آل عمران:۱۰۱][’’ اور تم میں اس کا رسول ہے۔‘‘ ] وَلَوْ أَنَّھُمْ إِذْ ظَّلَمُوْآ أَنْفُسَھُمْ جَآئُ وْکَ فَاسْتَغْفَرُوا ا للّٰه وَاسْتَغْفَرَلَھُمُ الرَّسُوْلُ ط [النسآء: ۶۴] [ ’’ اور اگر یہ لوگ جب انہوں نے اپنی جانوں پر ظلم کیا تھا۔ تیرے پاس آجاتے اور اللہ تعالیٰ سے استغفار کرتے اور رسول بھی ان کے لیے استغفار کرتے۔‘‘ ] لِأَھَبَ لَکِ غُلَامًا زَکِیًّا ط[مریم:۱۹] [’’تاکہ تجھے ایک پاکیزہ لڑکا دوں ۔‘‘ ] إِنَّمَا أَنَا قَاسِمٌ وَاللّٰہُ مُعْطِیْ ط [رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’ جس کے ساتھ اللہ تعالیٰ بھلائی چاہتا ہے اسے دین کی سمجھ دے دیتا ہے اور دینے والا تو اللہ ہی ہے۔ میں تو صرف تقسیم کرنے والا ہوں اور یہ امت ہمیشہ اللہ کے امر پر قائم رہے گی۔ جو ان کی مخالفت کرے گا وہ ان کو نقصان نہ