کتاب: قرآن وحدیث کی روشنی میں احکام و مسائل - صفحہ 110
لے سکیں تو یہ آیت کریمہ اس طرح ہے: ﴿ قُلْ مَا سَأَلْتُکُمْ مِّنْ أَجْرٍ فَھُوَ لَکُمْ إِنْ أَجْرِیَ إِلاَّ عَلَی ا للّٰه وَھُوَ عَلٰی کُلِّ شَیْئٍ شَھِیْدٌ﴾پھر اس آیت کریمہ کے لوگوں سے اور بالخصوص ایمان والوں سے اجرت صلہ، مزدوری اور معاوضہ لینے کی نفی نہیں صرف اس کے طلب کرنے کی نفی ہے۔ دیکھئے سورہ فرقان میں ہے: ﴿ قُلْ مَآ أَسْئَلُکُمْ عَلَیْہِ مِنْ أَجْرٍ إِلاَّ مَنْ شَآئَ أَنْ یَتَّخِذَ إِلٰی رَبِّہٖ سَبِیْلًا﴾ [الفرقان:۵۷][’’ کہہ دیجئے کہ میں قرآن کے پہنچانے پرتم سے کوئی بدلہ نہیں چاہتا، مگر جو شخص اپنے رب کی طرف راہ پکڑنا چاہے۔‘‘ ]پھر مالِ فے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کاحصہ ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں : ﴿مَآ أَفَآئَ ا للّٰه عَلٰی رَسُوْلِہٖ مِنْ أَھْلِ الْقُرٰی فَلِلّٰہِ وَلِلرَّسُوْلِ وَلِذِی الْقُرْبٰی﴾ الایۃ[الحشر:۷][’’ بستیوں والوں کا جو (مال) اللہ تعالیٰ تمہارے لڑے بھڑے بغیر اپنے رسول کے ہاتھ لگائے وہ اللہ کا ہے اور رسول کا قرابت والوں کا اور یتیموں ، مسکینوں کا اور مسافروں کا ہے ، تاکہ تمہارے دولت مندوں کے ہاتھ میں ہی یہ مال گردش کرتا نہ رہ جائے اور تمہیں جو جو کچھ رسول دے اسے لے لو اور جس سے روکے رک جاؤ اور اللہ سے ڈرتے رہا کرو۔ یقینا اللہ سخت عذاب دینے والا ہے۔‘‘ ]۔ نیز مالِ غنیمت کے خمس سے پانچواں حصہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے مختص ہے۔ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: ﴿ وَاعْلَمُوْٓا أَنَّمَا غَنِمْتُمْ مِّنْ شَیْئٍ فَأَنَّ لِلّٰہِ خُمُسَہٗ وَلِلرَّسُوْلِ وَلِذِی الْقُرْبٰی ﴾ الآیۃ[الانفال:۴۱][’’ جان لو کہ تم جس قسم کی جو کچھ غنیمت حاصل کرو اس میں سے پانچواں حصہ تو اللہ کا ہے اوررسول کا اور قرابت داروں کا اور یتیموں کا اور مسکینوں کا اور مسافروں کا۔‘‘ ]۔ وفد عبدالقیس والی حدیث میں ہے: (( وأَنْ تُعْطُوْا خُمُسَ مَا غَنِمْتُمْ)) [’’ وفد عبدالقیس کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’میں تمہیں چار باتوں کا حکم دیتا ہوں اور چار سے منع کرتا ہوں ۔ ‘‘] میں تمہیں اللہ پر ایمان لانے کا حکم دیتا ہوں کیا تم جانتے ہو اللہ پر ایمان لانا کیسا ہے؟ گواہی دینا کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے رسول ہیں اور نماز کو پابندی سے ادا کرنا ، زکوٰۃ دینا اور غنیمت سے پانچواں حصہ ادا کرنا، پس خمس کا دینا بھی ایمان میں داخل ہے۔ اور چار برتنوں سے منع کیا۔ سبز مرتبان سے اور کدو کے بنائے ہوئے برتن سے اور روغنی برتن سے اور لکڑی کے کھودے ہوئے برتن سے۔ (ان برتنوں کا استعمال شراب میں ہوتا تھا، جب شراب حرام ہوئی تو چند روز تک آپؐ نے ان برتنوں کے استعمال کی بھی ممانعت فرمادی۔) [1] رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے: (( وَإِنَّ مِنْ أَمَنِّ النَّاسِ عَلَیَّ فِیْ مَالِہٖ وَصُحْبَتِہٖ أَبَا بَکْرٍ)) [2] [’’ بلاشبہ [1] بخاری ؍ کتاب فضائل أصحاب النبی صلی ا للّٰه علیہ وسلم ؍ باب قول النبی صلی ا للّٰه علیہ وسلم سدوا الابواب الاباب أبی بکر، مسلم ؍ کتاب فضائل الصحابۃ ؍ باب من فضائل أبی بکر الصدیق [2] بخاری ؍ کتاب الإیمان ؍ باب أداء الخمس من الإیمان ، مسلم ؍ کتاب الإیمان ؍ باب الامر بالإیمان باللّٰہ