کتاب: قرآن وحدیث کی روشنی میں احکام و مسائل - صفحہ 106
جسموں کی طرف لوٹادے۔ ہم پھر دنیا میں جاکر تیری راہ میں جہاد کریں اور مارے جائیں ۔ اب معلوم ہوگیا کہ انہیں کسی اور چیز کی حاجت نہیں تو ان سے پوچھنا چھوڑ دیا کہ کیا چاہتے ہو؟[1] رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’ جو لوگ فوت ہوجاتے ہیں اور اللہ کے ہاں بہتری پاتے ہیں وہ ہرگز دنیا میں آنا پسند نہیں کرتے، مگر شہید کہ وہ تمنا کرتا ہے کہ دنیا میں دوبارہ لوٹایا جائے اور دوبارہ اللہ کی راہ میں شہید ہو ، کیونکہ شہادت کے درجات کو وہ دیکھ رہا ہے۔‘‘[2] الخ پھر شہداء کی فرمائش بھی اس بات پر دلالت کررہی ہے کہ ان میں زندگی ہے، جس کی بنیاد پر وہ فرمائش کررہے ہیں ۔ نیز ان میں شعور بھی ہے، جبکہ آپ انہیں بھی بے شعور بنارہے ہیں ۔ آپ لکھتے ہیں : ’’ اسی طرح قرآن میں بھی موت کے بعد روح لوٹائے جانے کا کوئی تصور نہیں ۔‘‘ تو محترم عرض کروں گا تصور میں تو قرآنِ مجید نے تین واقعات بیان فرمادیئے ہیں ، جن میں موت کے بعد روح ان میں لوٹائی گئی اور فوت ہونے والے زندہ ہوکر دنیا میں بھی آئے۔ (۱) ایک بستی بے آباد پر گزرنے والے جنہیں اللہ تعالیٰ نے سو سال فوت رکھنے کے بعد زندہ فرمایا۔ (۲) موسیٰ علیہ السلام کے ساتھی جن کو مار ڈالنے کے بعد اللہ تعالیٰ نے زندہ فرمایا اور اٹھایا۔ (۳) ہزاروں کی تعداد موت کے ڈر سے بستی چھوڑ گئے انہیں اللہ تعالیٰ نے مارنے کے بعد زندہ فرمادیا۔ اب غور فرمائیں قرآنِ مجید میں موت کے بعد روح لوٹانے کا تصور ہے یا نہیں ؟ پہلے وضاحت کرچکا ہوں کہ اصول، ضابطہ، قاعدہ اور قانون یہی ہے کہ موت اور دنیاوی زندگی ختم ہونے کے بعد دنیاوی زندگی کسی کو نہیں ملتی، مگر اس اصول، ضابطہ ، قاعدہ اور قانون سے چند صورتیں مستثنیٰ ہیں ۔ جیسے مذکورہ بالا تین صورتیں ۔ پھر غورفرمائیں فوت شدگان جب قبروں سے اٹھیں گے، اس وقت تو روحیں ان میں لوٹائی جائیں گی۔ جس میں کسی بھی مسلم کو کسی قسم کا کوئی شک و شبہ نہیں ، جبکہ آپ کے الفاظ: ’’ اسی طرح قرآن میں بھی موت کے بعد روح لوٹائے جانے کا کوئی تصور نہیں ۔‘‘ اپنے عموم و اطلاق کے لحاظ سے حشر و نشر کے موقع پر روحیں لوٹانے کی بھی نفی فرمارہے ہیں ۔ بہر حال جنابِ محترم سے بڑی ہی مؤدبانہ گزارش ہے کہ آپ قرآنِ مجید کی وہ آیت کریمہ درج فرمائیں جس میں ہو: ’’ موت کے بعد روح لوٹائے جانے کاتصور نہیں ۔‘‘ یا ’’ موت کے بعد روح نہیں لوٹائی جاتی۔ ‘‘ یا ’’موت کے بعد روح نہیں لوٹائی جائے گی۔‘‘ بہر کیف ایسی کوئی ایک آیت درج فرمادیں ، جس میں موت کے بعد روح لوٹائے جانے کی نفی ہو۔ آپ کی بڑی مہربانی ہوگی۔ نیز آپ لکھتے ہیں : ’’ قرآن ہر انسان کو مردہ ہونے کے بعد بے شعور ہونے کا تصور پیش کرتا ہے۔ ‘‘ تو محترم [1] مسلم ، کتاب الإمارۃ، باب فضل الشھادۃ فی سبیل اللّٰہ۔ [2] ایضاً