کتاب: قرآن وحدیث کی روشنی میں احکام و مسائل - صفحہ 102
آپ صحابہ رضی اللہ عنہم پر الزام لگانا چاہتے ہیں کہ انہوں نے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو زندہ درگور کردیا۔‘‘ صاحب تحریر نے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کا جہاں کہیں ان کی تحریر میں ذکر آیا انہوں نے (ؓ)ہی لکھا ہے۔ رضی اللہ عنہم والے لفظ نہیں لکھے۔ ہم نے ان کی عبارت کو من و عن نقل کیا ہے۔ امید ہے جناب محسوس نہیں فرمائیں گے۔ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے اجماع والی بات تو پہلے لکھی جاچکی ہے کہ اس وقت ابھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قبر میں داخل ہی نہیں کیے گئے تھے، پھر وہ اجماع رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی موت اور دنیاوی زندگی کے ختم ہونے پر تھا۔ باقی تمام صحابہ کرام رضی اللہ عنہم ثواب و عذاب قبر کے معتقد اور قائل تھے، عذابِ قبر سے پناہ مانگا کرتے تھے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خود عذابِ قبر سے پناہ مانگا کرتے تھے۔ نیز آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے عذابِ قبر سے پناہ مانگنے کا حکم دے رکھا ہے تو ثواب و عذاب قبر و برزخ سے ثابت ہوتا ہے کہ قبر و برزخ میں بھی ایک زندگی ہے چاہے وہ دنیاوی اور قبروں سے اٹھنے کے بعد والی اخروی زندگی کی بنسبت موت ہی ہے۔ لہٰذا آپ کا لکھنا : ’’ کیا آپ صحابہ رضی اللہ عنہم پر الزام لگانا چاہتے ہیں کہ انہوں نے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو زندہ درگور کردیا۔‘‘ خواہ مخواہ ہے۔ ہاں قبر میں دنیاوی زندگی کا عقیدہ رکھنے والوں کے بارے میں آپ کی یہ بات کچھ نہ کچھ وزن رکھتی ہے۔ رہا آپ کافرمان: ’’ اور قیامت سے پہلے دوبارہ زندہ بھی نہیں کیے جائیں گے۔‘‘ اگر بایں معنی ہے کہ قیامت سے پہلے دنیا والی زندگی کے ساتھ زندہ نہیں کیے جائیں گے تو درست ہے، اگر بایں معنی ہے کہ قیامت سے پہلے قبر و برزخ والی زندگی کے ساتھ زندہ نہیں تو یہ نہ قرآنِ مجید ہے، نہ ہی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث ہے اور نہ ہی صحابہ کرام رضی اللہ عنہم میں سے کسی ایک بھی صحابی رضی اللہ عنہ کا عقیدہ ہے۔ باقی صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے اس پر اجماع کا تو سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ اس لیے آپ کا فرمانا: ’’ تو آپؐ کو مدینہ والی قبر میں زندہ کہہ کر قرآن و حدیث کا کفر کیوں کرتے ہیں ؟ کیا آپ صحابہؓ…الخ ‘‘ سراسر زیادتی ہے، جس کا قطعاً آپ کو حق نہیں پہنچتا۔ ہاں ! اگر آپ قرآنِ مجید کی کوئی آیت ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی کوئی صحیح حدیث اور کسی ایک صحابی رضی اللہ عنہ کا کوئی ایک ہی قول پیش فرماتے۔ جس میں یہ چیز ہوتی کہ اصحابِ قبور یا اصحابِ برزخ قبر و برزخ میں قبر و برزخ والی زندگی کے ساتھ بھی زندہ نہیں تو پھر آپ اپنی اوپر والی بات میں کسی حد تک حق پر تصور کیے جاسکتے تھے۔ جبکہ سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ والی سابقہ حدیث میں برزخ و قبر کی زندگی ثابت ہوچکی ہے، ورنہ اس میں مذکور ثواب و عذاب بے معنی ہوکر رہ جائیں گے۔ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: ﴿ وَلَوْ تَرٰیٓ إِذِ الظَّالِمُوْنَ فِیْ غَمَرَاتِ الْمَوْتِ وَالْمَلَآئِکَۃُ بَاسِطُوْآ أَیْدِیْھِمْ