کتاب: قرآن وحدیث کی روشنی میں احکام و مسائل - صفحہ 100
مقام اور ایک گھر ہے تو آپ نے تکمیل عمر اور وفات کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی کو تسلیم فرمالیا۔ مزید سنیے یہی حدیث سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ جس کا آخری حصہ آپ نے نقل فرمایا جس میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے گھر کا تذکرہ ہے اور باقی ساری حدیث چھوڑ دی ، حالانکہ قبر اور برزخ کے موضوع میں صرف رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہی زیر بحث نہیں آتے، بلکہ تمام قبروں والے انبیاء کرام علیہم الصلاۃ والسلام سے لے کر ادنی ایمان والے حتی کہ کفار بھی زیر بحث آتے ہیں تو غور فرمائیں ۔ اسی صحیح بخاری کی سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ والی حدیث میں مندرجہ ذیل رجال و اشخاص کا تذکرہ ہے۔ [1] (۱)کذاب.....اس کی دونوں شدقوں .....وراچھوں .....کو گدی تک لوہے کے کلوب کے ساتھ چیرا جارہا ہے اور جبریل و میکائیل علیہما السلام نے فرمایا: ((فَیُصْنَعُ بِہٖ إِلیٰ یَوْمِ الْقِیَامَۃِ))’’ قیامت کے دن تک اس کو یہی سزا دی جائے گی۔‘‘ (۲)رات کے وقت قرآنِ مجید کی تلاوت نہ کرنے والا اور دن کے وقت قرآنِ مجید پر عمل نہ کرنے والا قرآنِ مجید کا عالم .....پتھر کے ساتھ اس کا سرکچلا جارہا ہے۔ جبریل و میکائیل علیہما السلام نے فرمایا: (( یُفْعَلُ بِھِمْ إِلیٰ یَوْمِ الْقِیَامَۃِ)) ’’قیامت کے دن تک ان کو یہی سزا دی جائے گی۔‘‘ (۳)زنا کرنے والے اور زنا کرنے والیاں .....ان کو تنور نما گڑھے میں تیز و تند آگ میں جلایا جارہا ہے۔ جبریل و میکایل علیہما السلام نے فرمایا: (( یُفْعَلُ بِھِمْ إِلیٰ یَوْمِ الْقِیَامَۃِ)) ’’قیامت کے دن تک ان کو یہی سزا دی جائے گی۔‘‘ (۴)سودخور.....خون کے دریا میں ہے ، باہر نکلنے کی کوشش کرتا ہے کنارے کے قریب آتا ہے تو اس کے منہ پہ پتھر دے مارا جاتا ہے۔ اور نکلنے نہیں دیا جاتا۔ جبریل و میکائیل علیہما السلام نے فرمایا: (( یُفْعَلُ بِھِمْ إِلیٰ یَوْمِ الْقِیَامَۃِ)) ’’قیامت کے دن تک ان کو یہی سزا دی جائے گی۔‘‘ یاد رہے جبریل و میکائیل کے لفظ زانی اور سود خوار کے متعلق (( یُفْعَلُ بِھِمْ إِلیٰ یَوْمِ الْقِیَامَۃِ)) صحیح بخاری جلد اول ، ص:۱۸۵ پر نہیں کسی اور مقام پر ہیں ۔ (۵)ایک عظیم درخت کے نیچے اس کی اصل میں ابراہیم علیہ السلام اور اس کے آس پاس اردگرد لوگوں کے بچے۔ (۶)اس عظیم درخت کے قریب آگ جلانے والا مالک خازنِ نار۔ (۷)جبریل و میکائیل علیہما السلام رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو لے کر اس عظیم درخت پر چڑھ گئے۔ انہوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم [1] صحیح بخاری، کتاب الجنائز