کتاب: اگر تم مومن ہو - صفحہ 81
جاؤ (مداہنت اختیار کرو) تو یہ بھی ڈھیلے پڑ جائیں۔‘‘ جمہوریت اور طاغوتی آئین و قوانین کی پاسداری کو شرک جاننے مگر اس کے ذریعے اقامتِ دین کرنے پر مصر رہنے والوں میں سے بعض حالتِ اضطرار کا بہانہ کرتے ہیں جبکہ حالتِ اضطرار میں حرام کردہ چیزیں بقدر ضرورت کھانے کی اجازت ہے ، شرک کی نہیں۔ بعض لوگ حالتِ اکرہ کا بہانہ کرتے ہیں جبکہ حالت اکرہ میں بھی ’’کفر‘‘ سرزد ہونے پر معافی کی تصریح ملتی ہے شرک پہ نہیں (دیکھئے صفحہ:51) شرک کے حوالے سے تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد پہلے بھی گزر چکا ہے کہ:۔ [لَا تُشْرِکْ بِاللّٰہِ شَیْئًا وَّاِنْ قُتِلْتُ وَحُرِّقت] [طبرانی، معاذ رضی اللّٰه عنہ ] ’’ تم شرک نہ کرنا خواہ تم قتل کر دئیے جاؤ یا زندہ جلا دئیے جاؤ۔‘‘ مذکورہ بالا لوگوں میں سے بعض حالتِ خوف کا بہانہ کرتے ہیں اور پارلیمانی شرک کی گنجائش نکالتے ہیں یہاں تک کہ غلبہ حاصل ہو جائے جبکہ اس کے برعکس اﷲتعالیٰ حالت خوف میں شرک نہ کرنے اور ایمان و عمل صالح پہ قائم رہنے کے نتیجے میں غلبہ و اقتدار کا وعدہ فرما رہا ہے۔ اﷲتعالیٰ کا ارشاد ہے کہ: ﴿ وَعَدَ اللّٰہُ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ لَیَسْتَخْلِفَنَّھُمْ فِی الْاَرْضِ کَمَا اسْتَخْلَفَ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِھِمْ وَلَیُمَکِّنَنَّ لَھُمْ دِیْنَھُمُ الَّذِیْ ارْتَضٰی لَھُمْ وَلَیُبَدِّلَنَّھُمْ مِن بَعْدِ خَوْفِھِمْ اَمْنًا یَعْبُدُوْنَنِی لَا یُشْرِکُوْنَ بِیْ شَیْئًا وَمَنْ کَفَرَ بَعْدَ ذٰلِکَ فَاُوْلٰئِکَ ھُمُ الْفٰسِقُوْنَ﴾ [النور:55] ’’ وعدہ فرمایا ہے اﷲنے ان لوگوں سے جو ایمان لائے تم میں سے اور عمل کرتے رہے صالح کہ ضرور عطا فرمائے گا انہیں زمین میں خلافت جس طرح عطا فرمائی تھی ان لوگوں کو جو ان سے پہلے تھے اور ضرور قائم کر دے گا، مضبوط بنیادوں پر ان کیلئے