کتاب: اگر تم مومن ہو - صفحہ 79
دن پارلیمنٹ میں اکثریت حاصل کرلیں گے اور دین قائم کر دیں گے۔ ان سے سوال ہے کہ طواغیت کی اطاعت کرتے ہوئے اور ان کے قوانین کی پابندی کرتے ہوئے اقتدار میں آ کر دین قائم کرنے کا ایسا طریقہ آخری نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کیوں اختیار نہ کیا؟ کفار تو اپنی تھوڑی سی بات مان لینے کی شرط پر آپ کے پاس خود اقتدار دینے آئے تھے مگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسے اقتدار کی طرف نظر تک نہ کی مگر ادھر اقامتِ دین والوں کی حالت یہ ہے کہ اقتدر کی خاطر طاغوت کی اطاعت میں تو کوئی کسر نہیں رہنے دی ہے مگر رسوائی کے سوا پھر بھی ہاتھ کچھ بھی نہیں آیا ہے۔ ان سے گزارش ہے کہ ذیل کی آیات کو غور سے پڑھیں اور دیکھیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا دین جس کی اقامت کا حکم ہے وہ حقیقت میں ہے کیا؟ اور پھر بتائیں کہ جب مکہ میں طاغوت غالب تھا تو کیا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس دین پر عمل موقوف کر دیا تھا؟ کیا اس حالت میں آپ کفار کی طرف ذرہ سے بھی جھکے تھے؟ اور کیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے مقابل کوئی مداہنت اختیار کی تھی؟ جبکہ آپ اتنا ستائے جا رہے تھے کہ اتنا کبھی کوئی نہیں ستایا گیا تھا۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے دین کے حوالے سے اﷲتعالیٰ کا ارشاد ہے کہ: ﴿ قُلْ یُآیُّھَا النَّاسُ اِنْ کُنْتُمْ فِیْ شَکٍّ مِّنْ دِیْنِیْ فَلَآ اَعْبُدُ الَّذِیْنَ تَعْبُدُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰہِ وَلٰکِنْ اَعْبُدُ اللّٰہَ الَّذِیْ یَتَوَفّٰکُمْ ج صلے وَاُمِرْتُ اَنْ اَکُوْنَ مِنَ الْمُؤْمِنِیْنَ o وَاَنْ اَقِمْ وَجْھَکَ لِلدِّیْنِ حَنِیْفًا ج وَلَا تَکُوْنَنَّ مِنَ الْمُشْرَکِیْنَ﴾ [یونس:104…105] ’’ کہو کہ اے لوگو!اگر تمہیں میرے دین کے بارے میں شک ہے تو (سُن لو کہ) میں ان کی بندگی نہیں کرتا جن کی تم اﷲکے علاوہ بندگی کرتے ہو بلکہ میں تو صرف