کتاب: اگر تم مومن ہو - صفحہ 41
﴿ اِتَّخَذُوْآ اَحْبَارَھُمْ وَرُھْبَانَھُمْ اَرْبَابًا مِّنْ دُوْنِ اللّٰہِ﴾ [التوبہ:31] ’’ انہوں نے اپنے علماء اور پیروں کو اﷲکے سوا اپنا رب بنا لیا تھا۔‘‘ طاغوت!غیر اﷲکی بندگی کا پیشوا۔ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے کہ: [مَا مِنْ مَوْلُوْدٍ اِلَّا یُوْلَدُ عَلَی الْفِطْرَۃِ قَاَبَوَاہُ یُہَوِّدَانِہِ اَوْیُنَصِّرَانِہِ اَوْ یُمَجِّسَانِہِ کَمَا تُنْتَجْ الْبَہِیْمَۃً جَمْعَائَ ھَلْ تُحِسُوْنَ فِیْہَا مِنْ جَدْعَائَ ثُمَّ یَقُوْلُ﴿فِطْرَتَ اللّٰہِ الَّتِیْ فَطَرَ النَّاسَ عَلَیْھَا ط لَا تَبْدِیْلَ لِخَلْقِ اللّٰہِ ط ذٰلِکَ الدِّیْنُ الْقَیِّمُ﴾][الروم:30] ’’ ہر ایک بچہ فطرت (اسلام ) پر پیدا ہوتا ہے پھر اس کے ماں باپ اس کو یہودی، نصرانی یا مجوسی بنا دیتے ہیں جیسے تم دیکھتے ہو کہ ہر ایک چوپائے جانور کا بچہ پورے بدن کا پیدا ہوتا ہے ، کہیں تم نے دیکھا ہے کوئی بچہ کن کٹا پیدا ہوا ہو؟ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ آیت تلاوت فرمائی :ترجمہ(قائم ہو جاؤ) اس فطرت پر جس پر اﷲنے انسانوں کو پیدا کیا، اﷲکی بنائی ہوئی ساخت تبدیل نہیں ہو سکتی یہی دین قیم ہے۔‘‘ حدیث بالا سے حقیقت واضح ہوتی ہے کہ کسی کی تبدیلی مذہب کے ذمہ دار اس کے والدین ہوتے ہیں۔ یہاں یہ بات واضح ہے کہ والدین ایسا ’’اﷲکی وحی کی بجائے اپنی اھواء کی اطاعت‘‘ ہی کی بنا پر کراتے ہیں پھر کتاب و سنت سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ لوگوں کے سرداراور حکمران وغیرہ بھی لوگوں کو اپنی اھواء کی اطاعت میں مبتلا کرتے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ ایک شخص جب لوگوں کو اﷲکی وحی کی بجائے اپنی اھواء کی اطاعت پہ لگا لیتا ہے تو وہ محض ایسا کر لینے ہی کی بنا پر طاغوت قرار پا جاتا ہے، اب اپنی اھواء کی اطاعت میں آگے