کتاب: اگر تم مومن ہو - صفحہ 37
’’ اور حقیقت یہ ہے کہ بہت سے لوگ بغیر علم (وحی) کے اپنی اھواء کی بنا پر دوسروں کو گمراہ کرتے ہیں، بیشک تیرا رب ان حد سے بڑھنے والوں کو خوب جانتا ہے۔‘‘ اﷲکی وحی کے مطابق فیصلے کرنا انبیاء کی بنیادی خصوصیت رہی ہے اور اﷲکی وحی کو چھوڑ کے فیصلے کرنا طاغوت کی بنیادی خصوصیت ہے اور ان فیصلوں کو دوسروں پہ بزور نافذ کرنا ایک اضافی خصوصیت ہے جو فیصلے کرنے والے کو کبھی حاصل ہوتی ہے اور کبھی حاصل نہیں ہوتی مگر فیصلے کرنے والوں کی مذکورہ اضافی خصوصیت کے علاوہ ایک خصوصیت ’’لوگوں کا (اپنے اوپر طاری کسی زورزبردستی کی حالت کے بغیر) اپنی مرضی سے انبیاء یا طواغیت کے پاس فیصلوں کیلئے حاضر ہونا اور ان فیصلوں کو اپنی مرضی سے خود اپنے اوپر نافذ کرنا ہے۔ لوگ جب نبی کی اطاعت اختیار کرتے ہیں اور اس کے دست و بازو بنتے ہیں تو یہ چیز بنی کو عملاً بااختیار بناتی ہے اور یہی چیز جب کسی طاغوت کو حاصل ہوتی ہے تو اسے بزور فیصلے نافذ کرنے کے قابل بناتی ہے ورنہ اگر بمطابق وحی یا بغیر وحی فیصلے کرنے کی خصوصیت کی بجائے انہیں بزور نافذ کرنے کی کیفیت ہی کسی شخص کے نبی یا طاغوت ہونے کی نشانی ہوتی تو یہ کیوں کہا جاتا کہ:۔ ﴿ لَا اِکْراہَ فِیْ الدَّیْنِ قف لا قَدْ تَبَیَّنَ الرُّشْدُ مِنَ الْغَیِّ ج فَمَنْ یَّکْفُرْ بِالطَّاغُوْتِ ویُؤْمِنْ م بِاللّٰہِ فَقَدِ اسْتَمْسَکَ بِالْعُرْوَۃِ الْوُثْقٰی﴾ [البقرہ:256] ’’ دین میں کوئی زورو زبردستی نہیں، حقیقت یہ ہے کہ ہدایت گمراہی سے الگ واضح کر دی گئی ہے پس جس نے طاغوت سے کفر کیا اور اﷲپر ایمان ایا وہ ایک مضبوط سہارے سے وابستہ ہو گیا۔‘‘ ﴿ یُرِیْدُوْنَ اَنْ یَّتَحَاکَمُوْآ اِلَی الطَّاغُوْتِ وَقَدْ اُمِرُوْآ اَنْ یَّکْفُرُوْا بِہٖ ط