کتاب: افواہوں کی شرعی حیثیت وجوہات، اقسام، اثرات - صفحہ 84
افواہوں کے نقصانات تاریخ کی نظر میں مروان کا باپ حکم بن العاص حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کا حقیقی چا ہے، فتح مکہ کے دن مسلمان ہوا لیکن اس کے دل میں اسلام راسخ نہ ہوا تھا اندرونی طور پر اسلام کا دشمن رہا۔ اور ان کے اسرار فاش کرتا رہتا تھا اس لیے اس کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس کو طائف جلا وطن کر دیا تھا مروان اس زمانہ میں صغیر السن تھا، اس لیے وہ بھی اپنے باپ کے ساتھ طائف میں رہا، آخر زمانہ میں حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کی واپسی کی اجازت حاصل کر لی تھی، اور اپنے زمانہ میں انہوں نے اس کو واپس بلا لیا اپ کو حکم اور مروان دونوں سے بڑی محبت تھی حکم کی موت کے بعد مروان کو اپنے ساتھ رکھتے تھے اور اس کو اپنا سیکرٹری بنا لیا تھا، آپ کی مہر وغیرہ اس کی تحویل میں رہتی تھی، اس نے حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کی طرف سے مصرع والی کو خط لکھ دیا تھا کہ مصری باغیوں کے سرغنہ پکڑ کر قتل کر دئیے جائیں جس کے نتیجہ میں حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کی شہادت کا واقعہ پیش آیا۔ بیعت رضوان اس کے بعد نبی علیہ السلام نے مصالحت کی گفتگو کے لیے خداش بن امیہ کو بھیجا قریش نے ان کو قتل کر ڈالنا چاہا، مگر ان کے قبیلے کے دو آدمیوں نے بچا لیا۔[1] خداش کے واپسی کے بعد قریش نے مسلمانوں پر حملے کے لیے ایک دستہ بھیجا، مگر وہ گرفتار کر لیا گیا۔ نبی علیہ السلام نے درگزر سے کام لے کر اسے رہا فرما دیا، قریش کی اس مخالفانہ روش کے باوجود آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مرتبہ پھر مصالحت کی کوشش کی اور دوبارہ حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ کو قریش کے پاس بھیجا انہوں نے آپ کو روک لیا۔ مسلمانوں میں یہ افواہ پھیل گئی، عثمان قتل کر دئیے گئے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو سخت صدمہ ہوا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے قصاص کے لیے [1] ابن سعد ، حصہ مغازی، ص 17۔