کتاب: افواہوں کی شرعی حیثیت وجوہات، اقسام، اثرات - صفحہ 43
امام بزار اور امام ابو یعلی حضرت سعد رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ((كُلُّ خُلَّةٍ يُطْبَعُ ، أَوْ قَالَ : يُطْوَى ، عَلَيْهَا الْمُؤْمِنُ ، شَكَّ عَلِيُّ بْنُ هَاشِمٍ ، إِلاَّ الْخِيَانَةَ وَالْكَذِبَ ۔))[1] ’’خیانت اور جھوٹ کے سوا مومن ہر خصلت پر پیدا کیا جاتا ہے۔‘‘ علامہ طیبی خیانت اور جھوٹ کے ایمان کے منافی ہونے کی حکمت بیان کرتے ہوئے رقمطراز ہیں : ’’خیانت اور جھوٹ ایمان کے منافی ہیں کیونکہ ایمان تو (امن) سے ہے کہ اس (ایمان) نے اس (مومن) کو تکذیب اور مخالفت سے بچا لیا علاوہ ازیں وہ (مومن) تو امانت الٰہیہ کا حامل ہے لہٰذا اس کو امین ہونا چاہیے نہ کہ خائن۔‘‘[2] خلاصہ گفتگو یہ ہے کہ جھوٹ ایمان کے منافی ہے اللہ کریم ہم سب کو اپنے فضل وکرم سے جھوٹ سے محفوظ رکھے۔ آمین 2: جھوٹ اور شرک کا باہمی تعلق: جھوٹ کی قباحت پر دلالت کرنے والی باتوں میں سے ایک یہ ہے کہ بعض آیات اور احادیث میں جھوٹ اور شرک دونوں سے ایک ہی مقام پر منع کیا گیا ہے یا دونوں کی برائی کو ایک ہی جگہ واضح کیا گیا ہے۔ اللہ تبارک و تعالیٰ کا ارشاد ہے: ﴿ فَاجْتَنِبُوا الرِّجْسَ مِنَ الْأَوْثَانِ وَاجْتَنِبُوا قَوْلَ الزُّورِ ﴾ (الحج : 30) ’’قول الزور بتوں کی گندگی سے بچو اور قول زور سے۔‘‘ زور سے مراد جیسا کہ علامہ قرطبی نے بیان کیا ہے باطل اور جھوٹ ہے اور اس کو زور [1] مسند ابی یعلی الموصلی مسند سعد بن ابی الوقاص رقم الحدیث: 23۔ /2 67۔68۔ [2] شرح الطیبی: 3132/10۔