کتاب: افواہوں کی شرعی حیثیت وجوہات، اقسام، اثرات - صفحہ 42
جھوٹ اور جھوٹے افواہوں کے نقصان قارئین کرام افواہ کو جنم دینے کے لیے ضروری ہے کہ آدمی جھوٹ کا سہارا لے اور جھوٹ ایک قابل مذمت اور قبیح فعل ہے۔ اور آدمی کے لیے دنیا وآخرت میں خسارے کا باعث ہے۔ ہم یہاں فضیلۃ الشیخ ڈاکٹر فضل الٰہی کی تحریر کو معمولی تصرف اور اختصار کے ساتھ آپ حضرات کی خدمت میں پیش کرتے ہیں جس میں جھوٹ کے نقصان کو بڑے احسن انداز میں واضح کیا گیا ہے جیسے ہم سب کو اس فعل قبیح کی ہلاکت کا اندازہ ہو سکے۔ 1: جھوٹ ایمان کے منافی ہے: اللہ تبارک و تعالیٰ کا ارشاد ہے: ﴿ إِنَّمَا يَفْتَرِي الْكَذِبَ الَّذِينَ لَا يُؤْمِنُونَ بِآيَاتِ اللَّهِ ۖ وَأُولَٰئِكَ هُمُ الْكَاذِبُونَ﴾ (النحل : 105) ’’جھوٹ تو وہی باندھتے ہیں جو کہ اللہ تعالیٰ کی آیات کے ساتھ ایمان نہیں لاتے اور یہی لوگ جھوٹے ہیں ۔‘‘ علامہ قاسمی اس آیت کی تفسیر میں تحریر کرتے ہیں : ’’جھوٹ تو انہی کو زیبا ہے جو ایمان نہیں لاتے کیونکہ انہیں سزا کا ڈر نہیں ہوتا جو انہیں جھوٹ سے روک سکے۔‘‘[1] لیکن جو لوگ آیات پر ایمان لاتے ہیں اور ان میں بیان کردہ عذاب سے ڈرتے ہیں ان سے جھوٹ نہیں بولا جا سکتا۔[2] [1] ملاحظہ ہو: تفسیر القاسمی: 160/10۔ [2] ملاحظہ ہو: تفسیر ابی المسعود: 142/5۔