کتاب: افواہوں کی شرعی حیثیت وجوہات، اقسام، اثرات - صفحہ 38
سے اعلان کیا اور فرمایا: ((يا معشرَ مَنْ أسْلَمَ بِلسانه، ولَمْ يُفضِ الإيمانُ إلى قلْبهِ! لا تُؤذوا المسْلمِينَ، ولا تَتَّبِعوا عَوْراتِهمْ؛ فإنَّه مَنْ تَتَبَّعَ عوْرَةِ أخيهِ المسْلمِ؛ تَتَبَّع الله عورَتَهُ، ومَنْ تَتَبَّعَ الله عَوْرَتَهُ؛ يَفْضَحُه، ولوْ في جَوْفِ رَحْلهِ )) [1] ’’اے وہ لوگو جو اپنی زبان سے اسلام کا اقرار کرچکے لیکن ابھی تک ایمان کی بشاشت ان کے دلوں تک نہیں پہنچی، تم مسلمانوں کو ایذا نہ پہنچاؤ اور نہ ان کے عیوب تلاش کرو، جو کوئی اپنے کسی مسلمان بھائی کے عیب تلاش کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کے عیب تلاش کرنا شروع کردیتا ہے اور جس کے عیب اللہ تعالیٰ تلاش کرنا شروع کردے تو وہ اس کو رسوا کردیتا ہے اگرچہ وہ شخص اپنے گھر کے اندر ہی کیوں نہ ہو۔‘‘ اس حدیث کو سننے کے بعد سیّدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے کعبہ کی طرف دیکھا اور کہا: ((ما أَعْظَمَكِ! وما أعْظَم حُرْمَتكِ! والمؤِمن أعظَمُ حُرمةً عندَ اللهِ منكِ ۔)) [2] ’’تیری کیا عظمت ہے اور تیری کیا حرمت و تقدس ہے! جبکہ اللہ کے نزدیک ایک مومن کی حرمت تجھ سے کہیں بڑھ کر ہے۔‘‘ لہٰذا ہر مسلمان کا یہ فرض ہے کہ وہ اس تقدس اور حرمت کا لحاظ کرے اور ہر ممکن اس کا دفاع کرنے کی کوشش کرے۔ (7)… اسی طرح شریعت نے یہ تدبیر اختیار کی ہے کہ جب اس طرح کی تکلیف دہ بات سامنے آئے تو بجائے اس کے کہ انسان اسی انداز میں اس کا مقابلہ کرے اور اسی طریقے [1] صحیح الترغیب والترہیب : 292/2۔ [2] صحیح الترغیب والترہیب 292/2۔