کتاب: افواہوں کی شرعی حیثیت وجوہات، اقسام، اثرات - صفحہ 30
لِیَصْمُتْ ۔))[1] ’’جو شخص اللہ تعالیٰ اور آخرت کے دن پر ایمان و یقین رکھتا ہو وہ بھلی بات کہے یا خاموش رہے۔‘‘ ایسا اس لیے ہے کہ انسان کے منہ سے نکلی ہوئی باتیں اس کے نامہ اعمال میں لکھی جاتی ہیں ، جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: ﴿ مَّا يَلْفِظُ مِن قَوْلٍ إِلَّا لَدَيْهِ رَقِيبٌ عَتِيدٌ ﴾ (ق : 18) ’’(اسنسان) منہ سے جو لفظ بھی نکالتا ہے، اس کے پاس نگہبان (فرشتے اسے لکھنے کے لیے) تیار رہتے ہیں ۔‘‘ افواہوں کی ترویج دراصل فواحش و منکرات کی ترویج ہے۔ جو شخص جھوٹے پروپیگنڈے کا علمبردار ہے اسے جان لینا چاہیے کہ وہ حقیقی معنوں میں فحاشی، بے حیائی اور برائی کی اشاعت کر رہا ہے کیونکہ انسانی فطرت ہے کہ اس وقت اس کے دل میں برائی کے خلاف نفرت کم پڑجاتی ہے جب اس کے علم میں یہ بات آتی ہے کہ لوگوں کی اکثریت اور ایک بہت بڑی تعداد اس برائی کے فعل کا ارتکاب کر رہی ہے، پھر رفتہ رفتہ وہ خود بھی بڑی اس برے فعل کا مرتکب بن جاتا ہے۔ بنی اسرائیل میں بھی یہی خوئے بدتھی کہ وہ ایک مرتبہ اپنے دوسرے بھائی کو برائی سے منع کرتے اگر وہ باز نہ آتا تو چند دنوں بعد خود اس کے شریک بن جاتے۔ لہٰذا افواہیں پھیلانے والے کی ان باتوں سے بہت سے لوگ خصوصاً سادہ لوح عوام متاثر ہوکر اس بات کے قائل ہوجائیں گے۔ جب لوگوں کا ایک جم غفیر اس غلط بات پر عمل کرے گا تو لامحالہ اس کے دل میں برائی کے خلاف نفرت کم پڑجائے گی جس سے اس بات کا قوی اندیشہ پیدا ہوجاتا ہے کہ وہخود اسے برے کام کو کرنے کا اقدام کرے گا، یہی وجہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے افواہوں اور پروپیگنڈوں کی ترویج کو قبیح گناہ (زنا) کے پھیلانے کے زمرے میں رکھا ہے، جیسا کہ ارشاد ربانی ہے: [1] صحیح البخاري : 6019، وصحیح مسلم : 48۔