کتاب: افواہوں کی شرعی حیثیت وجوہات، اقسام، اثرات - صفحہ 165
اور ایک اور مقام پر فرمایا: ﴿ أَفَأَنتَ تُكْرِهُ النَّاسَ حَتَّىٰ يَكُونُوا مُؤْمِنِينَ ﴾ (یونس: 99) ’’پھر کیا تو لوگوں کو مجبور کرے گا کہ وہ مومن ہو جائیں ۔‘‘ اللہ اور اس کے رسول پر ایمان لانے اور کلمہ پڑھ کر مسلمان ہونے کا مطلب اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ یہ عہد کرنا ہے کہ اب ہم حق وانصاف کا رویہ اپنائیں گے اور کوئی ایسی بات نہ کہیں گے، نہ کریں گے جس سے اللہ اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی نافرمانی لازم آتی ہو، لیکن اگر کوئی شخص اپنے قلب وضمیر کی امادگی کے ساتھ ایمان لانے کو تیار نہ ہو تو زبردستی اسے کلمہ پڑھانا نہ مفید ہے اور نہ خود اللہ اور اس کا رسول اسے پسند کرتا ہے، بلکہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم تو ایمان لانے والوں سے بھی یہ کہتے ہیں کہ ہماری بھی اطاعت تم صرف اچھی باتوں میں کرو گے، حضرت عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ سے مروی ہے: ’’آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ کی ایک جماعت بیٹھی تھی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مجھ سے اس بات پر بیعت کرو کہ اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہ کرو گے، چوری نہ کرو گے، زنا نہ کرو گے، اپنی اولاد کو قتل نہ کرو گے، نہ کسی پر ایسا بہتان باندھو گے جسے تم نے دیدہ دانستہ گھڑ لیا ہو اور کسی اچھی بات میں خدا اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی نافرمانی نہ کرو گے۔ پس جو کوئی تم میں سے اس عہد کو پورا کرے گا اس کا ثواب اللہ کے ذمے ہوگا اور جو کوئی ان باتوں میں سے کسی میں مبتلا ہوا اور دنیا میں اس نے سزا بھی پا لی تو یہ سزا اس کا کفارہ ہو جائے گی اور جو ان باتوں میں مبتلا ہو اور اللہ اس کو دنیا میں پوسیدہ رکھے تو وہ اللہ کے حوالے ہے، چاہے معاف کرے، چاہے سزا دے، پس ہم سب لوگوں نے اس شرط پر بیعت کر لی تھی۔‘‘ (صحیح بخاری، کتاب الایمان) اس حدیث کے ان الفاظ سے اور کسی اچھی بات میں خدا اور اس کے رسول کی نافرمانی نہ کرو گے۔ یہ ثابت ہوتا ہے کہ جو بات اچھی نہ ہو اس میں اللہ اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی