کتاب: آیت الکرسی کی فضیلت اور تفسیر - صفحہ 98
عَلٰٓی اَصْنَامٍ لَّہُمْ قَالُوْا یٰمُوْسَی اجْعَلْ لَّنَآ اِلٰہًا کَمَا لَہُمْ اٰلِہَۃٌ قَالَ اِنَّکُمْ قَوْمٌ تَجْہَلُوْنَ۔ اِنَّ ہٰٓؤُلَآئِ مُتَبَّرٌ مَّا ہُمْ فِیْہِ وَ بٰطِلٌ مَّا کَانُوْا یَعْمَلُوْنَ۔ قَالَ اَغَیْرَ اللّٰہِ اَبْغِیْکُمْ اِلٰہًا وَّ ہُوَ فَضَّلَکُمْ عَلَی الْعٰلَمِیْنَ}[1] [اور ہم نے بنی اسرائیل کو سمندر سے پار اُتارا، تو وہ ایسے لوگوں پر سے گزرے، جو اپنے کچھ بتوں پر جمے بیٹھے تھے۔ کہنے لگے: ’’اے موسیٰ! ہمارے لیے بھی کوئی معبود بنادیجیے، جیسے ان کے کچھ معبود ہیں۔‘‘ انہوں نے کہا: ’’بلاشبہ تم تو وہ لوگ ہو، جو بالکل نادان ہو۔ بے شک یہ لوگ جس (دین) پر ہیں، وہ تباہ و برباد کردیا جائے گا اور ان کا تمام کیا دھرا بے کار ہوجائے گا۔‘‘ انہوں نے کہا: ’’کیا میں اللہ تعالیٰ کے سوا تمہارے لیے کوئی معبود تلاش کروں؟ حالانکہ انہوں نے تمہیں جہانوں پر فضیلت بخشی ہے۔‘‘] ۸: دعوتِ عیسیٰ علیہ السلام : جب اللہ تعالیٰ روزِ قیامت حضرت عیسیٰ علیہ السلام سے پوچھیں گے، کہ آیا انہوں نے لوگوں سے کہا: ’’کہ اللہ تعالیٰ کو چھوڑ کر مجھے اور میری ماں کو معبود بنالو؟‘‘ تو حضرت عیسیٰ علیہ السلام جواب میں، قوم کو اپنی طرف سے پیش کردہ دعوت، بیان کریں گے، جسے اللہ تعالیٰ نے بایں الفاظ ذکر فرمایا ہے: {مَا قُلْتُ لَہُمْ اِلَّا مَآ اَمَرْتَنِیْ بِہٖٓ اَنِ اعْبُدُوا اللّٰہَ رَبِّیْ وَ رَبَّکُمْ [1] سورۃ الأعراف / الآیات ۱۳۸۔۱۴۰۔