کتاب: آیت الکرسی کی فضیلت اور تفسیر - صفحہ 93
’’اے لوگو! (اوپر جو انبیاءعلیہم السلام کا طریقہ و عقیدۂ توحید کا معلوم ہوچکا ہے) یہ تمہارا طریقہ ہے (،جس پر تم کو رہنا واجب ہے)، کہ وہ ایک ہی طریقہ ہے (جس میں کسی نبی اور کسی شریعت کو اختلاف نہیں ہوا) اور (حاصل اس طریقہ کا یہ ہے، کہ) میں تمہارا رب ہوں، تم میری عبادت کیا کرو اور (لوگوں کو چاہیے تھا، کہ جب یہ ثابت ہوچکا، کہ تمام انبیاء اور تمام آسمانی کتابیں اور شریعتیں اسی طریقہ کی داعی ہیں ، تو وہ بھی اسی طریقہ پر رہتے، مگر ایسا نہ کیا)۔‘‘ [1] ۵: ڈاکٹر محمد لقمان سلفی رقم طراز ہیں: ’’یہاں [اُمَّۃٌ] سے مراد دین و ملت ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے تمام انسانوں کو مخاطب کرکے فرمایا، کہ مذکورہ بالا آیتوں میں جن انبیاء کا ذکر آیا ہے، ان کے علاوہ بھی حضرت آدم علیہ السلام سے لے کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تک جتنے انبیاء گزرے ہیں، سبھوں کا عقیدہ اور دین ایک ہی تھا۔ سبھی عقیدۂ توحید پر قائم اور اس کی دعوت دینے والے تھے۔ ہر نبی نے اپنے عہد کے لوگوں کو توحید باری تعالیٰ کی دعوت دی، شرک سے ڈرایا اور انہیں بتایا، کہ اللہ تعالیٰ ہی تمام مخلوقات کا رب ہے۔ اس لیے صرف اسی کی عبادت کرنی چاہیے۔‘‘[2] ii: تفصیلی نصوص قرآن کریم میں بعض حضراتِ انبیاءعلیہم السلام کی دعوتِ توحید کے بارے میں انفرادی طور پر بھی ذکر کیا گیا ہے۔ ان میں سے چند ایک کے متعلق ذیل میں آیاتِ شریفہ ملاحظہ فرمائیے: [1] معارف القرآن ۶/۲۲۷۔ [2] تیسیر الرحمٰن ص ۹۳۹، حاشیہ (۳۳)۔