کتاب: آیت الکرسی کی فضیلت اور تفسیر - صفحہ 92
وَلَا مُشَارَکَۃَ لِغَیْرِہَا فِيْ الْاِتِّبَاعِ (وَّ اَنَا رَبُّکُمْ) لَآ إِلٰہَ لَکُمْ غَیْرِيْ (فَاعْبُدُوْنِ) لَا غَیْرُ۔[1] [(ترجمہ: بلاشبہ یہ تمہاری امت): یعنی توحید و اسلام والا دین تمہارا دین ہے، جس پر تمہارا ہونا لازم ہے، تو تم اسی پر ہوجاؤ۔ (ترجمہ: ایک ہی امت) انبیاءعلیہم السلام کے درمیان اس بارے میں نہ کوئی اختلاف تھا اور نہ ہی (اس دین کی) پیروی میں اس کے سوا، کسی اور کی شراکت ہے۔ (ترجمہ: اور میں تمہارا رب ہوں)۔ میرے سوا تمہارا کوئی معبود نہیں۔ (ترجمہ: پس تم میری عبادت کرو) کسی اور کی نہیں۔] ۳: علامہ الوسی نے قلم بند کیا ہے: ’’وَمَعْنٰی وَحْدَتِہَا اِتَّفَاقُ الْأَنْبِیَآئِ علیہم السلام عَلَیْہَا، أَيْ إِنَّ ہٰذِہٖ أُمَّتُکُمْ أُمَّۃٌ غَیْرُ مُخْتَلِفَۃٍ فِیْمَا بَیْنَ الْأَنْبِیَآئِ علیہم السلام ، بَلْ أَجْمَعُوْا کُلُّہُمْ عَلَیْہَا، فَلَمْ تَتَبَدَّلْ فِيْ عَصْرٍ مِّنَ الْأَعْصَارِ، کَمَا تَبَدَّلَتِ الْفُرُوْعُ۔‘‘[2] ’’اس کے ایک ہونے سے مراد یہ ہے، کہ(حضراتِ) انبیاءعلیہم السلام کا اس پر اتفاق ہے، یعنی یہ امت ایسی ہے، کہ اس کے (عقیدۂ توحید کے) متعلق انبیاءعلیہم السلام کے درمیان اختلاف نہیں، بلکہ ان سب کا اس پر اجماع ہے۔ اس میں زمانوں میں سے کسی زمانے میں (بھی) تبدیلی نہیں آئی، جیسے کہ فروع میں تبدیلی آتی ہے۔‘‘ ۴: مفتی محمد شفیع نے لکھا ہے: [1] ملاحظہ ہو: تفسیر البیضاوي ۲/۷۸۔ [2] روح المعاني ۱۷/۸۹۔ نیز ملاحظہ ہو: تفسیر أبي السعود ۶/۸۴؛ وتفسیر القاسمي ۱۱/۲۹۰؛ وتفسیر تیسیر الکریم الرحمٰن، ص ۵۳۰؛ وأیسر التفاسیر ۳/۱۳۰۔