کتاب: آیت الکرسی کی فضیلت اور تفسیر - صفحہ 88
أَنْذِرُوْٓا أَنَّ الشَّأْنَ الْخَطِیْرَ ہٰذَا۔[1] [یُنَزِّلُ الْمَلٰٓئِکَۃَ] [وہ (یعنی اللہ تعالیٰ) فرشتے نازل فرماتے ہیں] توحید کے نہایت حتمی ہونے کا بیان ہے اور اس بات کا اعلان ہے، کہ بلاشبہ وہ (یعنی توحید) دین ہے، (کہ) جس پر تمام انبیاء علیہم الصلاۃ والسلام کا اجماع ہے اور انہیں اس کی جانب لوگوں کو دعوت دینے کا حکم دیا گیا۔ [اَنْ اَنْذِرُوْٓا] [یہ کہ تم خبردار کرو] (اُن) انبیاء کو مخاطب کیا گیا ہے، جن پر فرشتے نازل ہوئے۔ اللہ تعالیٰ حکم دینے والے ہیں اور فرشتے اس حکم کو پہنچانے والے ہیں۔ [اَنَّہٗ لَآ اِلٰہَ اِلَّآ اَنَا] [بلاشبہ حقیقت یہ ہے، کہ میرے سوا کوئی معبود نہیں] [ضمیر الشان] کو جملے کے آغاز میں لانے کا فائدہ یہ ہے، کہ ابتدا ہی سے اس بات کا اعلان ہے، کہ اس میں بیان کردہ بات بہت بڑی ہے۔ مزید برآں (اس طرح) اسے خوب اچھی طرح ذہن نشین کروانا ہے، کیونکہ [ضمیر الشان] سے ابتدا ہی سے یہ بات سمجھی جاتی ہے، کہ سنگین اہمیت والی بات ہے۔ ذہن کہی جانے والی بات کا منتظر رہتا ہے اور اس کے سننے پر وہ بات ذہن میں اچھی طرح جا گزین اور خوب راسخ ہوجاتی ہے، گویا کہ کہا گیا ہے: خبردار کرو، کہ یہ سنگین اہمیت والی بات ہے۔] (إِنَّہٗ) میں (ہٗ) [ضمیر الشان]ہے۔ اس سے مراد وہ ضمیر ہے ، جو کہ بعد میں ذکر کردہ بات کی اہمیت کو اُجاگر کرتی ہے۔ ۲: علامہ شوکانی نے قلم بند کیا ہے: [1] تفسیر أبي السعود ۵/۹۵۔ ۹۶ باختصار۔