کتاب: آیت الکرسی کی فضیلت اور تفسیر - صفحہ 86
[لَآ إِلٰہَ إِلَّا اللّٰہُ ] مُخْلِصًا ، یُصَدِّقُ قَلْبُہٗ لِسَانَہٗ ، وَلِسَانُہٗ قَلْبَہٗ۔‘‘ [1] [’’اور میری شفاعت اس شخص کے لیے ہے، جس نے گواہی دی، کہ [لَآ إِلٰہَ إِلَّا اللّٰہُ ] [اللہ کے سوا کوئی (بھی) معبود نہیں] (اور اس نے یہ گواہی اس طرح) اخلاص سے دی، کہ اس کا دل، اس کی زبان، اور اس کی زبان اس کے دل کی تصدیق کر رہی ہو۔‘‘] س: تمام انبیاءعلیہم السلام پر نازل کردہ شریعتوں اور ان کی دعوت کی اساس آیت الکرسی کا اولین جملہ تمام انبیاء اور رسولوں علیہم السلام پر نازل کردہ شریعتوں کی اصل، اور ان میں سے ہر ایک کی دعوت کی اساس اور بنیاد تھا۔ ہر نبی کی جانب اس بارے میں وحی نازل کی گئی اور وہ اسی کی طرف دعوت دیتے رہے۔ ذیل میں اس بارے میں قدرے تفصیل ملاحظہ فرمائیے: i: اجمالی نصوص قرآن و سنت کی بعض نصوص میں اجمالی طور پر بیان کیا گیا ہے، کہ تمام انبیاءعلیہم السلام پر نازل کی گئی شریعتوں اور ان کی دعوت کا محور توحید تھا۔ اس سلسلے میں ذیل میں دو آیتوں کے حوالے سے تفصیل ملاحظہ فرمایئے: ۱: {یُنَزِّلُ الْمَلٰٓئِکَۃَ بِالرُّوْحِ مِنْ اَمْرِہٖ عَلٰی مَنْ یَّشَآئُ مِنْ [1] فتح الباري ۱۱؍۴۴۳۔ حافظ ابن حجر لکھتے ہیں ، کہ یہ الفاظ (امام) احمد کی روایت میں ہیں اور (امام) ابن حبان نے اسے [صحیح] قرار دیا ہے۔ (ملاحظہ ہو: المرجع السابق ۱۱؍۴۴۳)۔