کتاب: آیت الکرسی کی فضیلت اور تفسیر - صفحہ 82
’’ غَیْرَ شَاکٍّ۔‘‘[1] [وہ شک کرنے والا نہ ہو]۔ امام نووی نے اس حدیث کو اس جیسی دیگر روایات کے ساتھ، حسبِ ذیل عنوان کے تحت قلم بند کیاہے: [بَابُ الدَّلِیْلِ عَلٰی أَنَّ مَنْ مَّاتَ عَلَی التَّوْحِیْدِ دَخَلَ الْجَنَّۃَ قَطْعًا] [2] [اس بات کی دلیل کے متعلق باب ، کہ بلاشبہ جو شخص توحید پر فوت ہوا، وہ یقینا جنت میں داخل ہو گیا۔] شرحِ حدیث: علامہ نووی نے لکھا ہے: جان لیجیے ، کہ اہل سنت کا مذہب اور جس بات پر متقدمین اور متاخرین میں سے ،اہلِ حق ہیں، وہ یہ ہے ، کہ حالتِ توحید میں فوت ہونے والا بہرصورت یقینی طور پر جنت میں داخل ہو گا۔ اگر وہ نافرمانی کے کاموں سے بچا ہوا ہو گا ، تو وہ سرے ہی سے دوزخ میں داخل نہیں ہو گا اور جنت میں داخل ہو جائے گا۔ اگر اس نے کبیرہ گناہ کا ارتکاب کیا ہو گا اور توبہ کے بغیر فوت ہو گیا، تو اس کا معاملہ اللہ تعالیٰ کی مشیئت پر موقوف ہو گا، اگر چاہیں گے، تو اسے معاف فرما کر ابتدا ہی سے جنت میں داخل فرما دیں گے۔ اگر چاہیں گے، تو اپنی مشیئت کے بقدر اسے عذاب دے کر جنت میں داخل کر دیں گے۔ توحید کی حالت میں فوت ہونے والے شخص نے خواہ کتنے ہی گناہوں کا ارتکاب کیا ہو گا، [1] صحیح مسلم، کتاب الإیمان، جزء من رقم الحدیث ۴۵ ۔ (۲۷) ، ۱؍۵۷۔ [2] المرجع السابق ۱؍۵۵۔