کتاب: آیت الکرسی کی فضیلت اور تفسیر - صفحہ 77
وَآخِرَتَکَ فَبِالشِّرْکِ تَحْبِطُ الْأَعْمَالُ ، وَیَسْتَحِقُ الْعِقَابَ وَالنِّکَالَ۔ ‘‘[1] ’’(اوربلاشبہ یقینا آپ کی طرف اور ان لوگوں کی جانب ، جو آپ سے پہلے تھے، وحی کی گئی) تمام انبیاء کی طرف(بلاشبہ اگر آپ نے شرک کیا، تو لازماً آپ کا عمل ضائع ہو جائے گا) یہ مفرد مضاف ہے اور ہر عمل کو شامل کیے ہوئے ہے۔[2] پس تمام انبیاء۔علیہم السلام ۔ کی نبوتوں میں ہے، کہ بلاشبہ شرک تمام اعمال کو اکارت کرنے والا ہے۔ (اور ضرور بالضرور آپ خسارہ پانے والوں میں سے ہو جائیں گے) (یعنی) اپنے دین اور اپنی آخرت کو گنو ا لیں گے۔ سو شرک ہی کے ساتھ اعمال ضائع ہو جاتے ہیں اور (شرک کرنے والا) عذاب اور سزا کا مستحق ہو جاتا ہے۔] iii: شیخ ابو بکر جزائری رقم طراز ہیں: ’’ {وَلَوْ أَشْرَکُوْا لَحَبِطَ عَنْہُمْ مَّا کَانُوْا یَعْمَلُوْنَ} یُقَرِّرُ بِہٖ حَقِیْقَۃً عِلْمِیَّۃً ، وَہِيَ أَنَّ الشِّرْکَ مُحْبِطٌ لِّلْعَمَلِ ، فَإِنَّ أُولٰٓئِکَ الرُّسُلَ عَلٰی کَمَالِہِمْ وَعُلُوِّ دَرَجَاتِہِمْ ، لَوْ أَشْرَکُوْا بِرَبِّہِمْ سِوَاہُ ، فَعَبَدُوْا مَعَہُ غَیْرَہٗ لَبَطَلَ کُلُّ عَمَلٍ عَمِلُوْہُ۔ وَہٰذَا مِنْم بَابِ الْاِفْتِرَاضِ، وَإِلَّا فَالرُّسُلُ مَعْصُوْمُوْنَ ، [1] تفسیر تیسیر الکریم الرحمٰن ، ص ۷۲۹ (ط: الرسالۃ)۔ [2] یعنی (عَمَلُکَ)میں [عَمَلَ] مضاف اور مفرد ہے اور ضمیر [ ک] مضاف الیہ ہے، لہٰذا مراد یہ ہے ، کہ شرک کی وجہ سے آپ کا ہر عمل برباد ہو جائے گا۔ وَالْعَیَاذُ بِاللّٰہِ۔