کتاب: آیت الکرسی کی فضیلت اور تفسیر - صفحہ 72
’’کفارِ مکہ حضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے کہتے تھے ، کہ آپ بت پرستی کی نسبت اپنا سخت رویہ ترک کر دیں اور ہمارے معبودوں کی تردید نہ کریں، ہم بھی آپ کے خدا کی تعظیم کریں گے اور آپ کے طور وطریق اور مسلک و مشرب سے متعرض نہ ہوں گے۔ ممکن تھا، کہ ایک مصلح اعظم کے دل میں، جو خُلْقِ عَظیم پر پیدا کیا گیا ہے، نیک نیتی سے یہ خیال آجائے، کہ تھوڑی سی نرمی اختیار کرنے اور ڈھیل دینے سے کام بنتا ہے، تو برائے چندے نرم روش اختیار کرنے میں کیا مضائقہ ہے۔ اس پر حق تعالیٰ نے متنبہ فرما دیا، کہ آپ ان مکذبین کا کہنا نہ مانئیے۔ ان کی غرض محض آپ کو ڈھیلا کرنا ہے۔ ایمان لانا اور صداقت کو قبول کرنا مقصود نہیں۔‘‘ [1] رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا استقلال و ثبات: آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم دو ٹوک اور واضح انداز میں دعوتِ توحید دیتے رہے۔ اس سلسلے میں کسی قسم کی لچک ، نرمی ، رو رعایت اور مداہنت آپ کے قریب بھی … توفیقِ الٰہی سے … پھٹک نہ پائی۔ ترغیب و ترہیب کی کوئی شکل وضوح و بیان میں تبدیلی نہ لا سکی۔ سیرتِ طیبہ میں موجود ایسی متعدد مثالوں میں سے ایک ملاحظہ فرمایئے: امام ابو یعلیٰ نے حضرت عقیل بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کے حوالے سے روایت نقل کی ہے، (کہ) انہوں نے بیان کیا: ’’قریش ( کے لوگ) ابو طالب کے پاس آئے اور کہا: [1] القرآن الکریم و ترجمۃ معانیہ و تفسیرہ إلی اللغۃ الأردیۃ ، ص ۷۴۹ ، ف۹۔