کتاب: آیت الکرسی کی فضیلت اور تفسیر - صفحہ 69
زیرِ اقتدار شا می علاقے کو کھو بیٹھے۔ [1] v : اہلِ توحید کا مبارک کارواں فتوحات سے سرفراز ہوتے ہوئے مغربی جانب رواں دواں رہا، یہاں تک کہ ۹۲ ھ میں سمندر پار کر کے طارق بن زیاد سرزمینِ سپین میں پہنچے،[2] اسی سال ۲۸ رمضان المبارک کو اللہ تعالیٰ نے ان کے ہاتھوں وہاں توحید کے عَلم کو گاڑ دیا۔ اگلے سال رمضان ۹۳ھ میں لشکرِ توحید موسیٰ بن نُصَیر کی سر کردگی میں فرانس کے میدانوں میں پہنچ گیا۔[3] vi: مشرق میں لشکرِ توحید نے محمد بن قاسم کی زیرِ امارت ۹۳ھ میں سندھ کی بندرگاہ دیبل[4] اور ۹۵ھ میں ملتان کو سلطنتِ توحید میں شامل کیا۔[5] قتیبہ بن مسلم کی سپۂ سالاری میں ۹۴ھ میں جیشِ توحید نے کابل پر توحید کے پرچم کو لہرایا۔ تنبیہ: دو غیر مسلم مفکرین کے بیانات: (i): گروسٹ کا بیان: فرانسیسی مؤرخ Grousset نے سر زمینِ ایران و عراق میں لشکرِ توحید کی فتح قادسیہ تبصرہ کرتے ہوئے لکھا ہے ، کہ مسلمانوں کے پاس (اس فتح کے پانے کے لیے) ایمان کے سوا کوئی ہتھیار نہ تھا۔[6] توحیدِ الٰہی کا کھرا، سچا، ٹھوس ، مضبوط اور غیر متزلزل عقیدہ آج بھی اُمت ِاسلامیہ کا [1] ملاحظہ ہو: حضارۃ العرب ، ص ۱۷۶۔ [2] ملاحظہ ہو: تاریخ خلیفہ بن خیاط ، ص ۳۰۴۔ [3] ملاحظہ ہو: المرجع السابق ، ص ۳۰۴۔ [4] ملاحظہ ہو: المرجع السابق ، ص ۳۰۴۔ [5] ملاحظہ ہو: المرجع السابق ، ص ۳۰۷۔ [6] بحوالہ کتاب: ’’الإسلام فی آسیا الوسطٰی‘‘ للدکتور حسن أحمد محمود ص ۲۶۔