کتاب: آیت الکرسی کی فضیلت اور تفسیر - صفحہ 68
ربِّ قدیر نے معرکۂ قادسیہ ۱۴ ھجری میں ایرانیوں کو ذلیل و خوار کیا اور عراقِ عجمی سلطنتِ توحید کا حصہ بنا۔ ۲۱ ہجری میں ہونے والا معرکۂ نہاوند فتح الفتوح ( سب سے عظیم فتح) کہلایا، کہ اس کے نتیجے میں اللہ تعالیٰ نے ایران و عراق سے کسراؤں کی ایرانی سلطنت کا شیرازہ بکھیر دیا۔ [1] یہ وہی سلطنت تھی، جو کم و بیش چار صدیوں سے بڑی قوت و طاقت کے ساتھ عظیم رومی سلطنت کا مقابلہ کرتی رہی۔ iii: ہزاروں سالوں پر محیط تہذیب و ثقافت والی سر زمینِ مصر میں بیس ہجری میں دولتِ توحید کے جھنڈے لہرائے۔ مصر کے لوگ داعیانِ توحید سے اس قدر متاثر ہوئے، کہ… بقول فرانسیسی مستشرق ڈاکٹر غوستاف لوبون… ایک صدی سے کم مدت میں وہ ہزاروں سالوں پر محیط اپنی تہذیب و ثقافت بھول گئے اور اپنی اصلی زبان قبطی چھوڑ کر عربی کو اختیار کر لیا۔[2] iv : سر زمینِ شام، جو کہ آج کے کے چار ملکوں: سوریا، فلسطین، لبنان اور اردن پر مشتمل ایک ملک تھا، رومی سات سو سال سے حکمرانی کر رہے تھے۔ اہلِ توحید وہاں دعوت و جہاد کے لیے پہنچے۔ ۱۴ ھ میں دمشق پر پرچمِ توحید لہرایا،[3] ۱۶ ھ میں بیت المقدس کی چابیاں اہلِ توحید کے امام جناب عمر فاروق رضی اللہ عنہ کی خدمت میں پیش کی گئیں۔[4] شہر شہر اور قریہ قریہ سلطنتِ توحید میں شامل ہوتا رہا، یہاں تک کہ … بقول ڈاکٹر غوستاف لوبون… رومی صرف سات سالوں میں سات صدیوں سے اپنے [1] ملاحظہ ہو: تاریخ الإسلام (عہد الخلفاء الراشدین رضی اللّٰه عنہم ) للحافظ الذہبي ص ۲۲۶- ۲۲۷۔ نیز ملاحظہ ہو: ’’ الإسلام في آسیا الوسطٰی‘‘ ص ۱۵-۱۷؛ و ص ۲۷۔۲۸۔ [2] ملاحظہ ہو: حضارۃ العرب ، ص ۶۷۲۔ [3] ملاحظہ ہو: تاریخ خلیفہ بن خیاط ، ص ۱۲۵۔ [4] ملاحظہ ہو: المرجع السابق ، ص ۱۳۵۔