کتاب: آیت الکرسی کی فضیلت اور تفسیر - صفحہ 66
[’’کوئی معبود نہیں، مگر اللہ تعالیٰ۔‘‘] وہ اُٹھ کھڑے ہوئے اور کہنے لگے: ’’ أَجَعَلَ الْآلِہَۃَ إِلٰہًا وَّاحِدًا؟ ‘‘ [کیا اس (یعنی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ) نے سب معبودوں کا ایک معبود بنا دیا ہے؟ ‘‘] انہوں (یعنی ابن عباس رضی اللہ عنہما ) نے بیان کیا: ’’ وَنَزَلَتْ {صٓ وَالْقُرْآنِ ذِی الذِّکْرِ} إِلٰی قَوْلِہٖ: {إِنَّ ہٰذَا لَشَیْئٌ عُجَابٌ} [1] ’’ اور (یہ آیات) نازل ہوئیں (صٓ نصیحت والے قرآن کی قسم!) ارشادِ باری تعالیٰ تک: (بلاشبہ یہ تو یقینا بہت ہی عجیب بات ہے)۔ تاریخِ عالَم کی شہادت: حضراتِ صحابہ اور سلف صالحین نے عقیدۂ توحید کو دل و جان سے قبول کیا۔ اس کا اقرار و اعلان کیا۔ اسے اپنی زندگی میں جاری و ساری کیا۔ اس کی تبلیغ و اشاعت کی [1] المسند، رقم الحدیث ۲۰۰۸، ۳؍ ۳۱۴۔۳۱۵ (ط: مصر) ؛ و جامع الترمذي، أبواب تفسیر القرآن ، سورۃ ص ، جزء من رقم الحدیث ۴۴۹ ۳، ۹؍۷۱۔ ۷۳ ؛ و السنن الکبریٰ للنسائي، کتاب التفسیر، سورۃ ص ، رقم الحدیث ۱۱۳۷۲، ۱۰؍۲۳۳۔ ۲۳۴ (ط: مؤسسۃ الرسالۃ ) ؛ و مسند أبي یعلٰی الموصلي، رقم الحدیث ۲۵۶۔ (۲۵۸۳)، ۴؍ ۴۵۵۔ ۴۵۶ ؛ والإحسان في تقریب صحیح ابن حبان، کتاب التاریخ، باب إخبارہ صلي الله عليه وسلم عما یکون في أمتہٖ من الفتن والحوادث، ذکر الإخبار عن أداء العجم الجزیۃ إلی العرب ، رقم الحدیث ۶۶۸۶، ۱۵؍ ۷۹۔ ۸۰؛ والمستدرک علی الصحیحین، کتاب التفسیر، تفسیر سورۃ ص ، ۲؍ ۴۳۲۔ الفاظِ حدیث صحیح ابن حبان کے ہیں۔ امام ترمذی نے اسے [ حسن صحیح] ، امام حاکم اور شیخ احمد شاکر نے اس کی [سند کو صحیح] اور حافظ ذہبی نے اسے [صحیح] قرار دیا ہے۔ (ملاحظہ ہو: جامع الترمذي ۹؍ ۷۳ ؛ والمستدرک ۲؍۴۳۲؛ و ہامش المسند ۳؍ ۳۱۴؛ والتلخیص ۲؍ ۴۳۲)۔